’چاروں صوبوں سے پانچ برس میں 4450 لاشیں برآمد ہوئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق جبری طور پر گمشدہ ہونے اور کچھ عرصے کے بعد ان کی لاشیں ملنے کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ بلوچستان میں ہو رہے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 4,450 افراد کی لاشیں ملیں جن میں سے تین ہزار سے زیادہ کو شناخت کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کے چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے یہ تفصیلات بلوچستان کے علاقے خضدار سے اجتماعی قبروں سے ملنے والی لاشوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران جمع کروائیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ان تفصیلات میں اسلام آباد، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں، شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے اس عرصے کے دوران ملنے والی لاشوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ لاشیں صوبہ خیبر پختونخوا سے ملیں جن کی تعداد 2,600 ہے جبکہ سب سے کم لاشیں بلوچستان سے ملی ہیں جن کی تعداد 153 تھی اور ان میں سے 107 افراد کی لاشیں شناخت کے بعد اُن کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق لوگوں کی جبری طور پر گمشدگی اور پھر مسخ شدہ لاشیں ملنے کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ بلوچستان میں پیش آ رہے ہیں۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے دوران بلوچستان سے 300 کے قریب ایسے افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کی لاشیں اتنی مسخ شدہ تھیں کہ ان کی شناخت مشکل تھی۔

سکیورٹی اداروں کا اس ضمن میں موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر فرنٹئیر کور کی وردی پہن کر لوگوں کو جبری طور پر اغوا کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

صوبے پنجاب سے اس عرصے کے دوران پولیس نے مختلف علاقوں سے 1,299 لاشیں برآمد کیں جن میں سے 1,248 افراد کی شناخت ہوئی جبکہ 51 لاشیں شناحت نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ صحت پنجاب کے حوالے کردی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سندھ میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 398 لاشیں ملی تھیں جن میں سے 304 افراد کی شناخت ہوگئی جبکہ اس ضمن میں مقامی انتظامیہ نے پرنٹ میڈیا میں 48 اشتہارات بھی دیے تھے۔

صوبہ سندھ میں ملنے والی مذکورہ لاشوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ صرف ایک شہر یعنی کراچی سے ملی تھیں۔

اس رپورٹ میں ان افراد کی ہلاکت کی وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ درجہ بندی کی گئی ہے کہ کتنے افراد حادثات کا شکار ہوئے، بیماری یا نشے کی وجہ سے ہلاک ہوئے یا پھر انھیں قتل کیا گیا۔

اسی بارے میں