سندھ سے64 مقدمے فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری

Image caption سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف درحواست کی سماعت 12 فروری کو ہوگی

حکومتِ سندھ نے دہشت گردی کے 64 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوانے کی توثیق کر دی ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق ان مقدمات کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سپیشل کورٹس میں بھجوانے کی منظوری دی ہے۔

جن 64 مقدمات کو سپیشل کورٹس میں بھجوایا جائےگا ان میں جسٹس مقبول باقر کے قافلے پر حملہ کیس، ایئر پورٹ حملہ کیس اور ایڈوکیٹ مبارک رضا کاظمی کے قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دو فروری کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے 12 مقدمات موصول ہوگئے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ صوبائی ایپکس کمیٹیوں نے مقدمات وزارتِ داخلہ کو بھجوائے جن کی چھان بین کے بعد انھیں فوج کو بھجوایا گیا۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تین تین ، سندھ میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی گئی ہے۔

آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں تبدیلی کے بعد ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاہم پاکستان کی سپریم کورٹ 21ویں ترمیم کو آئین سے منافی قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی درخواست کی سماعت تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کر رہے ہیں اور اس کی اگلی پیشی 12 فروری کو ہو گی۔

تین جنوری کو پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ پاکستان میں اس وقت سرگرم 60 ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے اور اس کے باوجود اگر یہ اپنا کام جاری رکھنے پر بضد رہیں تو پھر ان کے کیس بھی فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں۔

اسی بارے میں