’قوی امکان ہے کہ آئی ایس آئی اسامہ کے بارے میں جانتی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسامہ بن لادن کو امریکہ نے سنہ 2011 میں ایک انتہائی رازدارانہ حملے میں ایبٹ آباد کے ایک رہائشی مکان پر حملے میں ہلاک کیا تھا

پاکستانی فوج کے انٹر سروسز انٹیلی جنس خفیہ ادارے کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ آئی ایس آئی نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو مئی 2011 میں ان کی ہلاکت سے قبل پناہ دے رکھی ہو۔

انھوں نے یہ باتیں عرب ٹی وی چینل الجزیرہ کے ایک پروگرام ’ہیڈ ٹو ہیڈ‘ میں انٹرویو کے دوران کہیں۔

اسامہ بن لادن کو امریکی فوج کے خصوصی دستے نے مئی سنہ 2011 میں شمالی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

آئی ایس آئی کے سابق چیف نے کہا کہ انھیں آئی ایس آئی کی جانب سے سرکاری طور پر دیے جانے والے بیان پر شک ہے کہ اسے القاعدہ کے رہنما کی موت تک ان کی رہائش گاہ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا ’میں قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیا ہوا۔۔۔ یہ بہت ممکن ہے کہ انھیں (آئی ایس آئی) اسامہ کے بارے میں علم نہ ہو لیکن میرے خیال سے قوی امکان اس بات کا ہے کہ انھیں (اسامہ کی موجودگی کا) علم تھا۔‘

اسد درانی کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے پاکستانیوں نے کسی معاہدے کے تحت امریکہ کو اسامہ کی رہائش کا پتہ دیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خیال رہا ہوگا کہ مناسب موقعے پر اسے ظاہر کیا جائے گا اور مناسب موقع وہ ہوتا ہے جب آپ نے ضروری تلافی کا معاہدہ کر لیا ہو۔ اگر آپ کے پاس اسامہ بن لادن جیسا کوئی شخص ہے تو آپ اسے یونہی امریکہ کو نہیں سونپ سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی ایس آئی کا موقف رہا ہے کہ اس نے بن لادن کو پناہ نہیں دی تھی اور اس نے سنہ 2011 کے حملے میں کوئی حصہ نہیں لیا

انھوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات کا انکشاف کسی ایسے معاہدے کے تحت ہی ہو سکتا ہے کہ ’کس طرح افغان مسئلے کا خاتمہ کیا جائے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’اگر آئی ایس آئی یہ کر رہی تھی تو میرے خیال میں وہ اچھا کام کر رہی تھی، اور اگر انھوں نے ان کی رہائش کا انکشاف کیا تو بھی وہی کیا جو انھیں کرنا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ آئی ایس آئی کا موقف یہ ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کو پناہ نہیں دی تھی اور نہ ہی اس نے سنہ 2011 کے حملے میں کوئی حصہ لیا تھا۔

اس بارے میں اسد درانی نے کہا: ’نااہلی کا اعتراف ممکنہ طر پر سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا۔۔۔ جہاں تک پاکستان کے عوام کا سوال ہے تو یہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ اسامہ بن لادن کے متعلق سازش میں شامل ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں سراہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ جنرل اسد درانی سنہ 1990 سے 1992 کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ رہے جبکہ سنہ 1994 سے 1997 تک وہ جرمنی اور سنہ 2000 سے 2002 تک سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر رہے۔

اسی بارے میں