بلوچستان سے فوجی عدالتوں کے لیے 53 مقدمات

Image caption پاکستان کے آئین اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کے بعد ملک میں ابتدائی طور پر نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے مطابق وفاقی حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت کل 53 کیس بھجوائے گئے ہیں جنھیں ابتدائی جائزے کے بعد فوجی عدالتوں کو بھیجا جائے گا۔

بی بی سی سے گفتگو میں صوبائی سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے بتایا کہ بدھ کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ حکام پر مشتمل ’ایپکس‘ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے اراکین جن میں وزیر اعلیٰ اور تمام کور کمانڈرز، چیف سیکریٹری، صوبائی وزیرداخلہ شامل تھے، سب نے متفقہ طور پر 53 مقدمات وفاقی وزارتِ داخلہ کو بھجوائے ہیں۔

فوجی عدالتوں کو مقدمات منتقل کیے جانے کے طریقۂ کار کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکبر حسین درانی نے بتایا: ’یہ مقدمات وزارتِ داخلہ کے پاس جاتے ہیں وہاں وفاقی حکومت کے ایڈیشنل سیکریٹری انچارج ہوتے ہیں اور فوج کے جیک برانچ کے ممبران بھی اس موجود ہوتے ہیں اور جائزے کے بعد وہ تجویز دیتے ہیں جس کے بعد وفاقی حکومت متعلقہ فوجی عدالتوں کو منتقل کر دے گی۔‘

اِن 53 کیسز میں کون کون سے کیسز شامل ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سیکریٹری داخلہ نے کسی خاص کیس کا نام لینے سے گریز کیا تاہم یہ بتایا کہ کہ اس میں مذہبی انتہاپسندی سے متعلق کیسز اس میں شامل ہیں جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، سپہ محمد اور جنداللہ سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔

’اس میں تمام بڑے واقعات کے کیسز شامل ہیں، کوئی قدغن نہیں ہے کہ کس کیس کو بھیجیں یا نہ بھیجیں، آگے وفاقی حکومت کی مرضی ہے کہ وہ کس کو فوجی عدالتوں میں بھیجتی ہے۔‘

ملک میں کل نو فوجی عدالتوں میں سے ایک بلوچستان میں قائم کی گئی ہے۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق ابھی یہاں فوجی عدالت قائم نہیں ہو سکی تاہم اس بارے میں اتنا معلوم ہے کہ اس میں تمام کارروائی بالکل ویسے ہی ہو گی جیسے فوجی عدالتوں میں ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلوچستان میں اب تک 200 سے زائد کارروائیاں کی ہیں جن میں 1800 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ نفرت انگیز مواد پر مشتمل سینکڑوں کیسٹیں قبضے میں لی گئی ہیں۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ نے سزائے موت کے قیدیوں کے مقدمات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان نے 14 کیسز وفاقی حکومت کو بھجوائے ہیں اور صدر سے گزارش کی گئی ہے کہ ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کی جائیں۔

اس وقت بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں کل کتنے کیسز موجود ہیں؟ اس سوال کے جواب میں صوبائی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ ان کی تعداد 500 سے زائد ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو سندھ حکومت نے کل 64 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوانے کی منظوری دی تھی۔

اسی بارے میں