ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چار جنوری سنہ 2011 کو سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی جانب سے اس سزا کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اس مقدمے کے سرکاری وکیل اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز قادری نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کا اعتراف کیا ہے اس کے علاوہ پولیس نے مجرم کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کیا ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کے اعتراف جرم پر ہی اُنھیں موت کی سزا سنائی ہے۔ اُنھوں نے سوال کیا کہ ’ایک مجرم اعتراف جرم کرنے کے بعد کیسے اُس سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے؟‘

بینچ کے سربراہ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اگر کسی شخص کا کردار متنازع ہو جائے تو قانون میں اس کے لیے کیا سزا تجویز کی گئی ہے؟ میاں رؤف کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص پر کسی غیر قانونی اقدامات کرنے کا الزام ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق ہی کارروائی ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ کاروکاری سے متعلق سپریم کورٹ کے ایسے بہت سے فیصلے موجود ہیں جس میں اس اقدام کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی کو کسی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سمیت کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے

سرکاری وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن میں مخالفین کے خلاف توہین مذہب کے الزامات لگا کر اُنھیں موت کے گھاٹ اُتارا گیا اور اُن مجرموں کو عدالت نے معاف نہیں کیا اور ذمہ داروں کو سزائیں بھی سنائی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون کی عمل داری کو یقینی نہ بنایا گیا تو پھر ملک میں جنگل کا قانون رائج ہو جائے گا اور ہر شخص خود ہی منصف بن کر فیصلے دینے لگے گا۔

اس سے پہلے مجرم ممتاز قادری کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج میاں نذیر نے کہا کہ چونکہ اُن کے موکل نے یہ سمجھا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کی ہے اس لیے اُنھیں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ اس واقعے میں مذہب کا عمل دخل ہے اس لیے اس مقدمے کو فیڈرل شریعت کورٹ میں بھجوایا جائے۔

عدالت نے فریقین کی طرف سے دلائل مکمل ہونے کے بعد مجرم ممتاز قادری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس بات کا امکان ہے کہ عدالت اس درخواست پر مختصر فیصلہ سنا دے، تاہم تفصیلی فیصلے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں۔

بدھ کو سماعت کے دوران وکلا خاصی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھے جو بظاہر مجرم ممتاز قادری کے حمایتی دکھائی دیتے تھے۔

سلمان تاثیر کو چار جنوری سنہ 2011 کو ان کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم اکتوبر 2011 کو اس مقدمے میں اعترافِ جرم کرنے والے ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی تھی۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم کی درخواست پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا اور اب عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی ہے۔

وفاقی حکومت نے ممتاز قادری کی سزا پر عمل درآمد کے خلاف تو ابھی تک عدالت عالیہ میں درخواست دائر نہیں کی لیکن سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں سرکاری وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔

اس مقدمے میں ممتاز قادری کی جانب سے اپیل کی پیروی کرنے والوں میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف اور اسی عدالت کے سابق جج میاں نذیر احمد بھی شامل ہیں۔

چند دن قبل اسی معاملے کی سماعت کے دوران خواجہ شریف نے پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین پر حملہ کرنے والوں کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں