’نامزد نہیں منتخب ہونا پسند کروں گا‘

Image caption چوہدری سرور کو برطانوی سیاست میں 40 سال کا تجربہ ہے

سابق گورنر پنجاب اور برطانوی پارلیمان کے سابق رکن چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ تحریک ِ انصاف کی طرف سے انھیں پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کی پیش کش ہوئی تھی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ عہدے پر نامزد ہونے کے بجائے منتخب ہونا پسند کریں گے۔

بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے صدر کا عہدہ ایک ’الیکٹڈ پوسٹ‘ ہے جس پر وہ نامزد ہونا نہیں چاہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کا نیا آئین مرتب کیا جا رہا ہے اور اس میں وہ عملی طور پر شریک ہیں جس کے بعد جب پارٹی کے صدر کے لیے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی طلب کیے جائیں گے تو وہ بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

خیال رہے کہ جاوید ہاشمی کو پارٹی سے نکالے جانے کے بعد سے پارٹی کے صدر کا عہدہ خالی ہے۔

سابق گورنر کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پوری قیادت کے سامنے انھیں پارٹی کی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کی پیش کش ہوئی تھی۔

تحریک انصاف کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ایک ایسی منظم جماعت بنانا چاہتے ہیں جس پر پاکستان کے لوگ فخر کر سکیں۔

سابق گورنر نے کہا کہ ’میں نے برطانوی سیاست میں 40 سال کے تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف ایک ایسی جماعت بن کر ابھرے جس کے ارکان میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر مرکزی عہدوں پر منتخب ہو سکیں۔‘

عمران خان کے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بحیثیت گورنر جو باتیں انھیں پریشان کرتی تھیں ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ عمران کی چار حلقے کھولنے والی بات کیوں نہیں مان لی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور ان چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کرا لینے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔

حکمران جماعت اور گورنر کا عہدہ چھوڑ کر حزب اختلاف کی جماعت میں شامل ہونے کے فیصلے پر انھوں نے کہا کہ وہ محل میں بیٹھ کر یہ دیکھ رہے تھے کہ ملک میں انصاف نہیں ہے، ظلم ہو رہا ہے، غریب پریشان ہیں تو ان سب باتوں سے انھیں بہت تکلیف ہوتی تھی اور مایوسی اور بے بسی کا احساس ہوتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ گورنر کے عہدے پر رہ کر وہ توقعات پوری نہیں کر پا رہے تھے جو لے کر وہ برطانوی شہریت چھوڑ کر پاکستان لوٹے تھے۔

خیبر پختونخوا کے تناظر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر ان کی جماعت وہاں پر بہتر کارکردگی نہ دکھا پائی تو لوگ ان پر دوبارہ اعتماد نہیں کریں گے۔

انھوں نے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ شعبوں میں وہاں بہتری آئی ہے مثال کے طور پر ان کے بقول وہاں پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے علاوہ دوسرے شعبوں میں بھی بہتری لانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں