’پارلیمان کے آئین میں تبدیلی کے اختیار کا تعین ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کا کہنا ہے کہ وہ درخواستوں پر فیصلہ قانون اور آئین کی روشنی میں دے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جانا ضروری ہے کہ پارلیمان کو ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

انھوں نے یہ ریمارکس 21ویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس آئینی ترمیم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے اس درخواست پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا جبکہ باقی تین صوبوں نے اس پر مزید مہلت مانگ لی۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ اس ضمن میں مزید درخواستیں آ چکی ہیں اس لیے وفاق اس بارے میں مفصل جواب عدالت میں جمع کروانا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس ضمن میں بہت وقت دے چکی ہے اور عدالت ان درخواستوں پر فیصلہ قانون اور آئین کی روشنی میں دے گی۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں بھی گذشتہ چار سال سے زیر التوا ہیں اور اب سپریم کورٹ دونوں ترامیم کے خلاف درخواستوں کو یکجا کر کے اُنھیں سنے گی۔

درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں میں حقائق مختلف تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اختیارات پر قدغن لگانے کی جو بات کی گئی تھی اسں بارے میں سپریم کورٹ کے احکامات پر 19ویں ترمیم میں دور کیا گیا ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ اُن کی درخواست کو الگ سے سنا جائے، جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی اور اٹارنی جنرل اور تین صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلوں سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروائیں۔

اُدھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک کے آئین میں سابق فوجی آمر ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی ترامیم بھی شامل ہوں تو اُس ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر سوالات تو ضرور اُٹھیں گے تاہم اس بارے میں فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ فوج کا تشخص بہتر دیکھنا چاہتی ہیں جہاں کوئی جنرل سیاست میں مداخلت نہ کر سکے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ میں بھی دم خم ہونا چاہیے اور یہ نہیں ہو سکتا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے دوان فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کریں اور پھر جب اس بارے میں رائے شماری کا وقت آئے تو فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ووٹ دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایک ایسے چیف جسٹس کے سامنے آیا ہے جو غیر متنازع ہیں۔

دریں اثنا پاکستان بار کونسل کی درخواست پر فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ملک بھر میں وکلا برادری نے جمعرات کو یوم سیاہ منایا اور وکلاء بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے۔

اسی بارے میں