’پشاور سکول حملے کے نو حملہ آور ہلاک، 12 گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’شدت پسندوں نے آرمی پبلک سکول کے قریب ایک امام مسجد کے گھر قیام کیا جو محکمہ آبپاشی کا ملازم تھا‘

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس سولہ دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے 27 رکنی گروپ کی شناخت ہوچکی ہے جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 گرفتار ہو چکے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصل سلیم باجوہ نے جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والے مبینہ حملہ آوروں میں سے چھ پاکستان اور چھ افغانستان سے گرفتار ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک سرکاری ملازم اور محمکہ آبپاشی کے امام مسجد مولوی عبدالسلام بھی شامل ہیں۔ ان دونوں سرکاری ملازموں نے خودکش حملہ آوروں کو اپنے مکان میں ٹھہرایا جو آرمی پبلک سکول کے قریبی علاقے میں ہی واقع ہیں۔

فوج کے ترجمان کے مطابق سانحہ پشاور میں ملوث بیشتر دہشت گرد پاکستانی ہیں اور پاکستان میں جن چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اُنھوں نے اعتراف کیا کہ ’اس حملے کا حکم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما ملا فضل اللہ نے دیا تھا‘۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے عتیق الرحمان کی گرفتاری پر 50 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا جبکہ ایک اور کمانڈر حضرت علی کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔

افغانستان میں گرفتار چھ ملزمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے دی جانے والی خفیہ معلومات کی بنا پر یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن پھر بھی افغان حکومت ان چھ ملزمان کو پاکستان کے حوالے کرد ے گی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ باقی چھ ماندہ افراد کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ اور آرمی پبلک سکول پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ ملا فضل اللہ سرفہرست ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے ملزمان پشاور میں مینا بازار کے علاوہ امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث تھے اس کے علاوہ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابتدا میں ملا فضل اللہ اور عمر امیر کے درمیان حملے کے حوالے سے مشاورت ہوئی جس کے بعد عمرامیر نےذمہ داری سنبھالی اور آصف عرف حاجی کامران کو کمانڈر بنایا جس نے پھر دو گروپ تشکیل دیے۔

ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں سے متعلق خفیہ اداروں نے کوئی مخصوص اطلاع نہیں دی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاکستانی افواج کی توجہ شدت پسندی کے خلاف جنگ سے ہٹانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے طالب علموں سمیت 140 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ ان عدالتوں کی کارروائی ان کیمرہ ہوگی اور میڈیا کو اس کی کوریج کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جو 12 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے ہیں۔ بریفنگ میں انھوں نے اُن مقدمات کی تفصلیلات تو نہیں بتائیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف ایف سی کے جوانوں کے گلے کاٹنے، خودکش حملہ آور تیار کرنے اور غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں۔

اسی بارے میں