ضلع باغ کے گاؤں میں ’کھلونا بم‘ سے دو بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغ کا گاؤں کھرل ملدیالاں لائن آف کنٹرول سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا ہے قبل ازوقت ہوگا کہ یہ فوجی ساختہ کھلونا بم تھا یا نہیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے حکام کا کہنا ہے کہ کھلونا نما بم پھٹنے کے نتیجے میں دوبچوں کی ہلاکت کی ہوئی ہے۔

صحافی رئیس خواجہ کے مطابق ضلع باغ کے ڈپٹی کمشنر ابرار اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ باغ کے گاؤں کھرل ملدیالاں میں پیش آیا جہاں عبدالمجید شیح کے دو بچوں کو مقامی کھیت سے کھلونا نما ٹین کا ڈبہ ملا جس کے ساتھ وہ کھیلنے لگے۔ اس دوران ڈبہ زمین پر گرنے سے پھٹ گیا۔

حکام کے مطابق واقعے میں چھ سالہ شبنم اور آٹھ سالہ معید ہلاک ہوگئے۔

باغ کا گاؤں کھرل ملدیالاں لائن آف کنٹرول سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا ہے قبل ازوقت ہوگا کہ یہ فوجی ساختہ کھلونا بم تھا یا نہیں۔

ڈپٹی کمشنر ابرار اعظم کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی تفتیش کے مطابق بم دیسی ساخت کا تھا۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مقامی کھیت میں اس نوعیت کا کھلونا نما بم کیسے آیا۔‘

ضلع باغ کے پولیس کے سربراہ کامران علی کے مطابق پھٹنے والے بم کے ٹکڑے جمع کرلیے گئے ہیں اور اسے فرانزک معائنے کے لیے لیباریٹری بھیجا جارہا ہے جہاں کیمیائی تجزیے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ بم کی نوعیت اور ساخت کیا تھی۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ بم دیسی ساخت کا تھا۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے متصل مقامات پر ماضی میں کھلونا بم پھٹنے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہی ہلاک ہوتے رہے ہیں۔

کھلونا نما بم کے بارے میں حکام کہتے رہے ہیں کہ یہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے پھینکے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں