’دینی مدارس میں غیر ملکی افراد کے داخلے پر پابندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption رپورٹ میں گرفتار کیے جانے والے افراد کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے افراد کی ضمانت ہو چکی ہے اور کتنوں کے خلاف مقدمات عدالتوں لو بھجوائےگئے ہیں

وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں میں واقع دینی مدارس میں غیر ملکی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے ان احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق جمعے کو وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن اور مالیاتی امور کے آڈٹ سے متعلق صوبوں میں اتفاق رائے پایا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے پر 26 مقدمات درج کیے گئے اور 32 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اس رپورٹ میں 233 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں 294 ایسے افراد کی بھی نشاندہی کی گئی جو شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کے باوجود ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن شروع کیے جانے کے بعد جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب تک 35,000 سے زائد ملزموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ میں گرفتار کیے جانے والے افراد کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے افراد کی ضمانت ہو چکی ہے اور کتنوں کے خلاف مقدمات عدالتوں لو بھجوائےگئے ہیں۔

رپورٹ میں شدت پسندی کے مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوانے کے لیے طریقۂ کار وضح کر لیا گیا ہے جبکہ وزارتِ قانون نے فوجداری نظام عدل کو مذید مستحکم بنانے کے لیے ایک مسودہ بھی تیار کیا ہے جسے جلد پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے مختلف صوبوں میں انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا اور اس سلسلے میں پنجاب میں 5,000، خیبر پختونخوا میں 3,000 اور سندھ میں 800 افراد کو بھرتی کرکے اُنھیں جدید خطوط پر تربیت دی جائے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت اب تک 16,344 سرچ آپریشن کیے گیے جن میں 12,462 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ لاوڈسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 3,265 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک 3 کروڑ دس لاکھ موبائل سموں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ باقی سموں کی تصدیق کا عمل اس سال اپریل کے وسط میں مکمل کرلیا جائے گا

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جن کے پاس کوئی سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اور چاروں صبوں میں صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کا سکیورٹی آڈٹ کر لیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں 57 سکیورٹی گارڈز کو تربیت دی گئی ہے جو مختلف میڈیا ہاوسز پر تعینات ہی۔۔

اسی بارے میں