’مشرف صادق و امین نہیں، پارلیمنٹ کے رکن نہیں بن سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے 18 اپریل 2013 کو مختصر فیصلے کے بعد اب تفصیلی فیصلہ دیا ہے

سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف صادق و امین نہیں ہیں لہذا وہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے اہل نہیں ہوسکتے۔

ہائی کورٹ کے مطابق انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی، ججوں کو گرفتار کیا اور اختیارات کا غیرقانونی استعمال کیا، ان اقدامات کی روشنی میں سابق صدر کو باکردار نہیں کہا جاسکتا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جنرل پرویز مشرف کی درخواست پر سات صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، فاضل عدالت نے گزشتہ عام انتخابات میں کراچی کے حلقے 250 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف پرویز مشرف کی اپیل 18اپریل 2013 کو مسترد کردی تھی جس کا تفصیلی فیصلہ تقریبا بائیس ماہ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف مجلس شوریٰ کی رکنیت کے اہل نہیں ہیں، انہوں نے 2007 میں آرمی چیف کی حیثیت سے ملک میں ایمرجنسی نافذکی، آئین سے انحراف کرنے والے ججوں کو عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے پر مجبور کیا پی سی او کا حلف لینے سے انکار پر ججوں کوگرفتار کیا گیا، ان اقدامات کی وجہ سے عدلیہ اور وکلا برداری کودھچکا لگا اور ان میں عدم تحفظ کے احساس میں بھی اضافہ ہوا۔

سندھ ہائی کورٹ کے فل بینچ نے جنرل پرویز مشرف کے ان اقدامات کو شرمناک قرار دیا ہے اور کہا کہ ان سے ملک کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچا، یہ اقدامات بلاشبہ عدالتی نظام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے، جس سے ملک کے 18کروڑ عوام متاثر ہوئے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مقدمے میں سپریم کورٹ بھی ان اقدامات کو غیرقانونی اور اختیارات سے تجاوز کرنا قراردے چکی ہے۔

ملک کا قانون دفاعی اور سول اداروں پر یکساں لاگو ہوتا ہے ،اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق کیا جاتا ہے بندوق کے زور پر نہیں، عدالت نے قراردیا کہ پرویز مشرف کے اقدامات ریاست پر قبضہ کرنے کے مترادف ہیں اور ان اقدامات کی وجہ سے پرویز مشرف پرمقدمہ چلنا چاہیے۔

اسی بارے میں