’بھارت سکیورٹی فورسز کو شہریوں پر فائرنگ سے باز رکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت نے 2003 میں ایل او سی پر فائر بندی کا معاہدہ کیا تھا تاہم دونوں ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں

پاکستانی دفترِ خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر اپنے 60 سالہ شہری کی ہلاکت پر بھارت سے احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو سرحد پر پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے سے باز رکھے۔

سنیچر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے راولا کوٹ سیکٹر کے پولاس نامی گاؤں میں بھارتی فورسز کی بلاشتعال فائرنگ کے نتیجے میں محمد اسلم نامی پاکستانی شہری کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ 60 سالہ محمد اسلم پاکستانی لائن آف کنٹرول کے علاقے میں 100 سے 150 میٹرتک اندر موجود تھےاور لکڑیاں کاٹ رہے تھے جب وہ سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ میں 3 گولیوں کا نشانہ بنے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کے بعد پاکستان نے جوابی فائرنگ کی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں روکے اور اپنی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے سے باز رہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے واقعے کی مذمت کی ہے اور بھارت سے کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر فائرنگ سے روکے اور سرحد اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی حلاف ورزیاں بند کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اس کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مشرقی سرحدوں پر تناؤ پیدا کرتا ہے۔

جمعے کو بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے پاک بھارت مذاکرات کو بحال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ ضابطے کے تحت پہلے مرحلے میں بھارتی سیکرٹری خارجہ پاکستان آئیں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے سنیچر کو اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ سے کشمیر سمیت تمام امور پر بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اپنے دورۂ امریکہ کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ 2003 میں ہوا تھا۔

تاہم گذشتہ برس کے اواخر سے فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں