’منگل سوتر نہیں شادی سرٹیفیکیٹ ضروری‘

Image caption تارا چند دیگر خاندانوں کی طرح سبزی اور پھل کا ٹھیلا لگا کر اپنی بیوہ ماں، بیوی اور سات بچوں کا پیٹ پالتے ہیں

پاکستان میں ہندو شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے نچلے طبقے کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔

گذشتہ برس حکمراں جماعت کے رکنِ پارلیمان نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک تفصیلی بل قومی اسمبلی میں متعارف کروایا تھا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے دو بار اس بل کو منظور کرنے کے احکامات کے باوجود اسے کابینہ کی منظوری نہیں ملی۔

تارا چند حیدرآباد کے علاقے نمبر چار لطیف آباد کی ایک ہندو بستی کے رہائشی ہیں۔

تارا چند بھی اس غریب بستی میں 40 دیگر خاندانوں کی طرح سبزی اور پھل کا ٹھیلا لگا کر اپنی بیوہ ماں، بیوی اور سات بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

تارا چند کی شادی 16 برس پہلے ہوئی تھی۔ اگرچہ ان کی بیوی میرا نے گلے میں منگل سوتر اور مانگ میں سندور ڈال رکھا ہے لیکن تارا کا کہنا ہے کہ شادی کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر ان کے رشتے کا یہی ثبوت ہے۔

’ایسے لگتا ہے کہ ہم خالی کے خالی رہ رہے ہیں۔ حکومت کے حساب سے ہماری شادی نہیں ہوئی۔ ہماری شادی تو ہوئی ہے لیکن اگر کوئی میری بیوی کو اٹھا لے جاتا ہے، یا بچے اغوا ہو جاتے ہیں تو میرے پاس شادی کا کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔‘

تارا اپنی بیوی میرا کے لیے ان کے شوہر کے نام کا شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس شادی کی کوئی تصویر نہیں ہے۔

میرا کا کہنا ہے ’ہمیں اب احساس ہوا ہے کہ شناختی کارڈ سے وطن کارڈ ملتا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیسے بھی ملتے ہیں۔‘

Image caption پاکستان میں ہندو شادیوں کے لیے کوئی خصوصی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے

پاکستان میں ہندو شادیوں کے لیے کوئی خصوصی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے۔

حیدرآباد میں فیملی لا کے ایڈووکیٹ شاوک راتھوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی برادری کئی سالوں سے ہندو شادیوں کے اندراج کے لیے احتجاج کر رہی ہے اور یہ مسئلہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کے بعد زیادہ شروع ہوا۔

تارا چند کا کہنا ہے ’جب ہم شناختی کارڈ بنوانے کے لیے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں نکاح نامہ دکھائیں۔ پھر ہم جب ان کو بتاتے ہیں کہ ہمارے ہاں نکاح نہیں، پھیرے لیے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ کے رسم و رواج اپنی جگہ، ہمیں تو سرٹیفیکیٹ چاہیے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جب کسی عدالت میں گھریلو مقدمات جاتے ہیں جیسا کہ جبری شادیاں، جائیداد یا طلاق کے مقدمات تو ان کے حل میں بہت مشکل پیدا ہوتی ہے۔

’اگر کوئی خاتون اپنے شوہر سے خلا لینا چاہے تو جج ہم سے پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی دستاویز موجود نہیں ہے تو طلاق کیسے دی جا سکتی ہے؟‘

ہندو پنڈتوں یا پنچایتوں کے پاس شادی بیاہ کے اندراج کا حق نہیں ہے۔

پاکستان میں ہندو جوڑے اپنے رسم و رواج کے مطابق شادی تو کر لیتے ہیں لیکن ریاست اسے تسلیم نہیں کرتی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رکنِ پارلمیان ڈاکٹر رمیش کمار وانکونی نے گذشتہ برس ہندو میرج ایکٹ ایک پرائیویٹ ممبر کے طور پر متعارف کروایا۔

Image caption ہندو میرج ایکٹ گذشتہ برس مارچ میں قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا

ڈاکٹر رمیش کہتے ہیں کہ جیسے نکاح ایک قومی نظام ہے، اسی طرح ہندوؤں کے لیے بھی قومی نظام ہونا چاہیے۔

’اس قانون میں شادی اور طلاق کا طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پنڈت یا مہاراج کیسا ہے؟ کتنے پھیرے ہونے چاہیں؟ کیا وہ ہمارے دھرم کے حساب سے شادی کروا رہا ہے؟ کیا ضلعی کونسل میں رجسٹریشن ہوئی ہے یا نہیں۔ ہم بھی قومی شخص ہیں، ہمیں بھی قومی نظام چاہیے۔‘

ڈاکٹر رمیش کا کہنا ہے کہ یہ بل قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے قانون اور کابینہ کے پاس ہے۔ اس بل کی منظوری کے لیے سپریم کورٹ نے دو بار احکامات جاری کیے ہیں لیکن پیش قدمی نہیں ہوئی۔

’میں نے یہ مجوزہ بل چاروں صوبوں کو بھی بھیجا ہے اور یہ کابینہ کے پاس گذشتہ برس ستمبر میں پہنچا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے تو اسے منظور کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں لیکن کسی کو بھی اس بل سے دلچسپی نہیں ہے۔ میری گزارش ہے کہ اگر وزیرِ اعظم نواز شریف اور کابینہ کے پاس وقت نہیں ہے تو قومی اسمبلی کو اس بل کی منظوری دے دینی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ ہندو میرج ایکٹ گذشتہ برس مارچ میں قومی اسمبلی میں پیش ہوا تھا۔

پاکستان میں ہندو سب سے بڑی اقلیتی برادری ہے جن میں سے سب سے زیادہ تعداد نچلی ذات کے ہندوؤں کی ہے۔ ان کے پاس نہ سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے کے پیسے ہیں اور نہ ہی کام کروانے کے لیے تعلقات ہیں۔

شادی بیاہ کے مسئلے انھی کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ جب تک قانونی رکاوٹیں رہیں گی ان جیسے خاندنوں کی حیثیت غیر واضح رہے گی۔

اسی بارے میں