شکارپور دھماکہ: لواحقین اور حکومت میں مذاکرات ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لانگ مارچ کے شرکا کے تیرہ مطالبات ہیں، جن میں ملزمان کی گرفتاری، کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں آپریشن، اسلحے کے لائسنس کا اجرا، متاثرہ امام بارگاہ کے سامنے موجود دکانیں مسمار کرکے دیوار کھڑی کرنا اور لواحقین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے مطالبات شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین اور صوبائی حکومت میں مذاکرات کے تین دور ناکام ہوگئے ہیں اور لانگ مارچ کے شرکا منگل کی شام کراچی پہنچ گئے ہیں۔

شکارپور کی امام بارگاہ میں 30 جنوری کو ایک خودکش بم دھماکے میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واقعے کے متاثرین نے شہدا کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی جس نے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور آپریشن کے لیے اتوار کو شکارپور سے کراچی تک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے لانگ مارچ کے شرکا نے اتوار کو رانی پور اور پیر کی شب بھٹ شاہ میں قیام کیا۔

منگل کی صبح دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کیا۔ راستے میں آنے والے شہروں میں قوم پرست جماعتوں اور شیعہ تنظیموں نے لانگ مارچ کا استقبال کیا۔

بسوں اور وین میں سوار لانگ مارچ کے شرکا سپر ہائی وے سے ہوتے ہوئے کراچی میں داخل ہوئےاور انچولی امام بارگاہ پہنچے۔ شیعہ تنظیموں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

سندھ اسمبلی میں سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے لانگ مارچ کے شرکا کی قیادت سے مذاکرات کی ناکامی اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ لواحقین کے لیے 20 20 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کر دی گئی ہے، تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی اور اسی دوران واقعے کا سرغنہ دو ساتھیوں سمیت کوئٹہ میں مارا گیا۔

’شاید سندھ کے کسی علاقے کے لوگوں کی اتنی مدد کی گئی ہو جتنی شکارپور واقعے کے متاثرین کی کی گئی ہے۔ لیکن اس کے باجود لواحقین شکارپور سے چل پڑے ہیں۔‘

نثار کھوڑو کے مطابق شہدا کمیٹی سے مذاکرات کے لیے آفتاب شعبان میرانی، آغا سراج درانی اور میر ہزار خان بجارانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن شہدا کمیٹی رضامند نہیں ہوئی، جب یہ مارچ رانی پور پہنچا تو آفتاب شعبانی میرانی اور ناصر شاہ نے مارچ کے شرکا سے ملاقات کی اور انھیں یقین دہانی کرائی کہ وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں اس طریقے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا لیکن پھر بھی شرکا راضی نہیں ہوئے۔

سینیئر صوبائی وزیر کے مطابق گذشتہ روز سندھ اسمبلی میں یہ معاملہ زیر بحث آنے کے بعد دوبارہ ان کی قیادت میں کمیٹی بنائی گئی اور وہ شرکا کی قیادت سے ملنے کے لیے بھٹ شاہ روانہ ہوئے راستے میں وہ ان سے رابطہ میں رہے لیکن جب رات کو ایک بجے ملاقات کے لیے پہنچے تو انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی قیادت کا بات کرنے کا موڈ دکھائی نہیں دیتا تھا۔

اسمبلی کے اراکین کو بتایا گیا کہ لانگ مارچ کے شرکا کے تیرہ مطالبات ہیں، جن میں ملزمان کی گرفتاری، کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں آپریشن، اسلحے کے لائسنس کا اجرا، متاثرہ امام بارگاہ کے سامنے موجود دکانیں مسمار کر کے دیوار کھڑی کرنا اور لواحقین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

سینیئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت جب کراچی میں آپریشن کر رہی ہے تو بیشک دوسرے علاقوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام مطالبات ماننے کو تیار تھے لیکن شہدا کمیٹی نے یہ ضد پکڑی کہ وہ کراچی آ رہے ہیں وہاں بات کی جائے۔

نثار کھوڑو نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی اراکین کو کہا کہ وہ ان کی آواز میں آواز ملائیں خدانخواستہ ایسا نہ ہوئے کہ موجود ماحول میں کوئی غلط فائدہ اٹھائے پہلے بھی یہ جلوس اور جلسے نشانہ بن چکے ہیں۔

دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی جنرل سیکریٹری مختار امامی نے صوبائی وزیر نثار کھوڑو کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ ان کا صرف ایک نکاتی ایجنڈہ اور مطالبہ ہے کہ شکارپور سمیت دیگر علاقوں میں آپریشن کیا جائے اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی ہو۔

ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’حکومت کی جانب سے جو بھی ٹیمیں آتی ہیں ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا صرف یہ کہتے ہیں کہ مہربانی کرو۔ مہربانی سے کیا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ چیک تقسیم کر کے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کریں اور جو ان کے حق میں آواز بلند کریں انہیں کہیں کہ آپ مہربانی کرو۔‘

سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت ریڈ زون میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ لانگ مارچ کے شہر میں داخل ہونے کے چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے۔

مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی جنرل سیکریٹری مختار امامی کا کہنا ہے کہ وہ 500 کلومیٹر کا سفر طے کر کے آ رہے ہیں کہیں پر بھی کوئی بدنظمی نہیں ہوئی وہ تو پرامن پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں حکومت کیا قدغن لگا کر ان کا جمہوری اور آئینی حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں