بارہ بھیڑیں چیتے کو کھلا دیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption احمد نے گائڈ کا پیشہ چھوڑ کر فوٹوگرافی کرنے کا فیصلہ کیا

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے کے ایک گاوں کے لوگ اب بھی حیران ہوتے ہیں کہ ایک کسان کے بیٹے نے اپنی ایک درجن سے زیادہ بھیڑوں کو ایک چیتے کی خوراک بننے دیا صرف اس وجہ سے کہ وہ اس چیتے کی ویڈیو بنانا چاہتا تھا۔

امتیاز احمد نے سنہ 2012 میں مارچ کے مہینے کی ٹھنڈ میں پانچ گھنٹے اپنے مال مویشیوں کے باڑے کے باہر اس برفانی چیتے کا انتظار کیا اور وہ اس چیتے کی پندرہ منٹ کی ویڈیو بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

اگلی صبح ان کے گھر والوں نے دیکھا کہ دس بھڑیں کھا لی گئی تھیں۔ ان میں ایک آدھی کھائی ہوئی حالت میں ملی۔ دو زندہ تھیں لیکن ان کی گردنیں پر زخم تھے اور وہ کچھ ہی دیر بعد مر گئیں۔

یہ تقریباً ایک ہزار ڈالر کا نقصان تھا جو کہ احمد کے گھر والوں کے لیے ایک بڑا مالی دھچکا تھا۔ احمد کو بھیڑوں کو بچانے کے لیے کچھ نہ کرنے پر گھر والوں اور ہمسائیوں کا غصہ برداشت کرنا پڑا۔

تو پھر اس نے ایسا کیوں کیا؟

احمد کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو بنانے والے کا پہلا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ آپ قدرت میں مداخلت نہ کریں اور اس کی عکس بند کر لیں۔

انھوں نے کہا اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ چیتے کو ہلاک کر دیتا جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption احمد کو برفانی چیتے کی فلم بنانے کا جنون کی حد تک شوق تھا

احمد کے لڑکپن کے دن سُست کے برفانی علاقے کے گاؤں ناظم آباد میں ایک ایسے دور میں گزرا جب پاکستان اور افغانستان میں مذہبی شدت پسندی پھیل رہی تھی اور سیاحوں کی امد کم ہو رہی تھی۔

احمد نے سنہ 2004 میں سکول چھوڑ کر مغربی سیاحوں، کوہ پیماوں اور شکاریوں کے لیے جو جنگلی بکریوں کے شکار کے لیے آتے ہیں گائڈ کا کام شروع کر دیا۔

اس کام میں وہ کے ٹو، براڈ پیک، راکاپوشی جسی بڑی اور مشہور پہاڑی چوٹیوں کے بیس کیمپس تک گئے اور چترال اور گلگت بلتستان کی شکار گاہوں میں گھومے۔

سنہ 2006 میں انھیں احساس ہوا کہ اس کام کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور انھوں نے ایک کیمرہ خرید لیا اور گلگت میں اپنا سٹوڈیو بنالیا۔ انھوں نے غیر سرکاری اداروں کے لیے جنگلی حیات کو محفوظ بنانے کے بارے میں مختصر دورانیے کی دستاویزی فلمیں بنانا شروع کر دیں۔

احمد نے بتایا کہ جب ان کی ویڈیو لائبریری وسیع ہونا شروع ہوئی انھیں اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا کہ ان کے پاس برفانی چیتے کی کوئی ویڈیو نہیں ہے جو ایک نایاب جانور ہونے کے ساتھ ساتھ لوک اور قدیم کہانیوں کا ایک اہم موضوع ہے۔

ان کی یہ خواہش اس وقت اور شدید ہو گئی جب سنہ 2006 میں بی بی سی کی دستاویزی فلم کے سلسلے میں چترال میں مارخور کا شکار کرتے ہوئے ایک برفانی چیتے کی عکس بندی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد پانچ برس تک انھوں نے سٹوڈیو سے ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ برفانی چیتے کی تلاش میں لگا دیا۔ ’میں نے مہینوں انتہائی اونچائی پر جنگلی بکریوں کی چراہ گاہوں میں گزارے اور برفانی چیتے کو دیکھے جانے کی جو بھی اطلاع مجھ تک پہنچتی میں اس طرف نکل جاتا۔

’لیکن میں کبھی اس کے قریب تک نہیں پہنچ سکا اس دن تک جب اس نے خود میرے پاس آنے کا فیصلہ کیا۔‘

سنہ 2012 میں فروری کے آخری دنوں میں احمد نے اس کے پنجوں کے نشان اپنے گھر کے پیچھے دیکھے اور انھوں نے اپنے بھائی کو خبردار کیا کہ وہ اس سے دور رہے۔

ایک ہفتے بعد جب وہ گلگت میں تھے تو ان کے بھائی نے فون کیا اور بتایا کہ برفانی چیتے کے پنچوں کے نشان گھر کے قریب مویشوں کے باڑے کے پاس پائے گئے ہیں۔

احمد نے اپنی موٹر سائیکل نکالی اور گلگت سے پانچ گھنٹے کا سفر کر کے بغیر اپنے بھائی کو بتائے اپنے گھر پہنچ گیا۔ وہ وہاس تقریباً گیارہ بجے رات کو پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ان کے گاوں میں لوگ ان کی اس حرکت سے آج بھی حیران ہیں

’میں جیسے ہی اپنے گھر کی طرف گیا میں نے برفانی چیتے کو باڑے سے تھوڑی دور درختوں کے نیچے بڑے سکون سے بیٹھے دیکھا۔‘

’میرے دل کی دھڑکن رک گئی لیکن چیتا نے کوئی حرکت نہیں کی۔ میں نے موٹر سائیکل کھڑی کی لیکن اس کا انجن اور اس کی ہیڈ لائٹ بند نہیں کی۔

’اگلے چار گھنٹوں میں احمد اس کوشش میں رہا کہ خاموشی سے جتنا چیتے کے قریب جا سکے جائے۔ تاکہ وہ موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں اس کی ویڈیو بنا سکے۔

’رات کے تین بجے چیتا اپنی جگہ سے اٹھا اور باڑے کی طرف جانے لگا۔ وہ باڑے کے عقبی حصے کی طرف غائب ہو گیا۔

’میں نے باڑے کے اندر ہلچل سنی۔ ایک لمحے کے لیے مجھے افسوس ہوا کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے تھا پھر مجھے خیال آیا کاش میرے پاس اچھا کیمرہ ہوتا اور میں باڑے کے اندر سے ویڈیو بناتا۔ پھر میں نے اس امید کے ساتھ کہ مجھے اس کا اچھا شاٹ مل جائے میں نے باہر انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

’اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ایک گھنٹے بعد برفانی چیتا دیوار کے پیچھے سے چھلانگ لگا کر باہر آ گیا اور اس کا چہرہ موٹر سائیکل کی لائٹ کی طرف تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption احمد کے علاوہ کسی اور شخص نے برفانی چیتے کی فلم نہیں بنائی ہے

احمد کو کیمرہ آن کرنے میں وقت لگا لیکن پھر بھی وہ ایک صاف شاٹ لینے میں کامیاب ہو گیا۔

یہ کوئی بہت اچھی فوٹیج نہیں لیکن یہ کسی عام آدمی کے پاس جس کے پاس کوئی اچھا کیمرہ بھی نہیں واحد فوٹیج ہو گی۔

’جس طرح کے ہماری برشکئی زبان میں کہا جاتا ہے کہ برفانی چیتا پہاڑوں کا فرشتہ ہے۔ اور یہ خوش قسمتوں کو نظر آتا ہے۔ اگر یہ آپ کے مویشی کھا جائے تو یقین رکھیں کہ آپ کی صحت ٹھیک رہے گی اورآپ کی دولت میں اضافہ ہو گا۔

’سنہ 2012 میں ہمارے پاس بارہ بھیڑیں تھیں آج ہمارے پاس اس سے دگنی ہیں اور کچھ گائیں اور یاک بھی ہیں۔‘