’شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کے علاوہ آپشن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کا کہنا ہے کہ وہ درخواستوں پر فیصلہ قانون اور آئین کی روشنی میں دے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ میں 21 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس فوجی عدالتوں کے قیام کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیر کو جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کہیں نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو عدالتِ عظمی اپنے فیصلوں میں اس کا ذکر ضرور کرتی۔

وفاق نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ بھی مخصوص حالات میں مجلسِ شوریٰ یعنی پارلیمان کو آئین سازی سے نہیں روکتا۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ 21 ویں ترمیم میں فوجی عدالتوں کا قیام دو سال کے لیے کیا گیا ہے تاکہ شدت پسندی کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جا سکے۔

وفاق کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اگر شدت پسندی کے مقدمات کو سول عدالتوں میں بھیجا جاتا تو وہاں پر سرکاری گواہوں اور عام آدمی کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہوتے کیونکہ شدت پسند انھیں کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتے ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں بنیادی انسانی حقوق کو مختصر کیا جا سکتا ہے اور جب حالات بہتر ہوں تو تمام بنیادی حقوق بحال کیے جا سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے درخواست گزاروں کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہوا لہذٰا ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا جائے۔

وفاق کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں کراچی اور خیبر پختونخوا میں جیل توڑنے کے واقعات پیش آئے جن میں شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور اس وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب کے مطابق شدت پسند نہ تو ملکی آئین اور نہ ہی قانون کو مانتے ہیں اور وہ اپنا قانون اور اپنی مرضی پاکستان کے شہریوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 24 فروری کو 21 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ہے تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواستیں دیں جو منظور کر لی گئیں۔

سپریم کورٹ نے منگل کی سماعت کے لیے 18 ویں آئینی ترمیم کے مقدمے کے جو درخواست گزار تھے ان کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

پاکستانی پارلیمان نے دو ماہ قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انھی اقدامات کے تحت منظور کی جانے والی 21ویں آئینی ترمیم میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی منظوری دی گئی تھی۔

پاکستان کی پارلیمان میں 21 ویں ترمیم کی منظوری متفقہ طور پر دی تھی تاہم پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تین تین ، سندھ میں دو جبکہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی جائے گی۔

اسی بارے میں