جسٹس رانا بھگوان داس 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رانا بھگوانداس پہلے ہندو اور دوسرے غیر مسلم جج تھے جو سپریم کورٹ کے جسٹس بنے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 73 برس تھی وہ دل کے عارضے میں کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

رانا بھگوان داس پہلے ہندو اور دوسرے غیر مسلم جج تھے جو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز رہے۔

ٹھنڈے مزاج کے حامل رانا بھگوان داس صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر نصیر آباد میں 20 دسمبر 1942 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سندھ کے مختلف تعلیمی اداروں میں حاصل کی جس کے بعد ایم اے اسلامیات، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔

رانا بھگوان دس نے 1965 میں وکالت کا آغاز کیا اور پریکٹس کے صرف دو سال بعد عدلیہ کا حصہ بن گئے۔ انھیں سول جج تعینات کیا گیا۔ ماتحت عدالتوں میں فائز رہنے کے ستائیس سال بعد انھیں سندھ ہائی کورٹ میں بطور جج ترقی دی گئی۔

4 فروری 2004 کو انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ انھیں اعلیٰ عدالت کے پہلے ہندو جج ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ ان کی تعیناتی کو چیلنج کرکے موقف اختیار کیا گیا کہ ایک ہندو جج نہیں ہو سکتا جس درخواست کو سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔

رانا بھگوان داس متعدد بار قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔

2007 میں جب اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کردیا تو رانا بھگوان داس نے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جس وقت پاکستان میں عدالتی بحران جاری تھا تو اس وقت رانا بھگوان داس بھارت مذہبی یاترا کرنے گئے ہوئے تھے۔ وکلا برادری کی نظریں ان پر لگی ہوئی تھیں۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ابرار حسن کہتے ہیں کہ انھوں نے اس تضاد کا انتہائی خوبصورتی سے سامنا کیا، وہ عظیم جج ثابت ہوئے اگر چاہتے تو خود بھی چیف جسٹس بن سکتے تھے لیکن انہوں نے عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لیے اہم کردار اد کیا۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد کہتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی میں رانا بھگوان داس کا کردار اہم رہا، ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں جب افتخار محمد چوہدری کی معزولی کی سماعت جاری تھی تو کمیشن کے پہلے سربراہ جسٹس جاوید اقبال تھے۔

’ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جسٹس جاوید اقبال اور پنجاب کے چیف جسٹس کسی سوچ یا خیال کے مطابق چل رہے ہیں جس وجہ سے ان سے کافی بدمزگی ہوتی تھی لیکن جب جسٹس رانا بھگوان داس آئے صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور وکلا برداری کو اطمینان ہوا کہ اب معالات درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘

پاکستان کی وکلا برداری جسٹس رانا بھگوان داس کو شریف اور اصول پرست جج سمجھتی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر ابرار حسن انہیں اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ سول جج تھے۔ ابرار حسن کا کہنا ہے کہ رانا بھگوان داس عوامی نقطہ نگاہ سے بہت اچھے جج تھے اور ان کے فیصلے عوام الناس کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوتے تھے۔

’وہ کبھی سیاسی اثر میں نہیں آئے۔ بینظیر بھٹو کا دور حکومت تھا ہائی کورٹ میں ان کی کنفرمیشن ہونی تھی لیکن پیپلز پارٹی حکومت نے تاخیر کی۔ میں نے رانا بھگوان داس سے ملاقات کی تو رانا بھگوان داس کا کہنا تھا کہ کوئی حرج نہیں انھیں ضرورت نہیں ہے کہ کسی کے پاس جائیں یا سفارش کرائیں۔‘

سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد رانا بھگوانداس کو نومبر 2009 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

اسی بارے میں