اسلام آباد میں روئٹرز کی خاتون صحافی کی ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماریانہ دو برس سے اسلام آباد میں روئٹرز کے بیورو چیف کی حیثیت سے تعینات تھیں

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی ماریا گلوونینا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انتقال کر گئی ہیں۔

روسی شہریت رکھنے والی 34 سالہ ماریا سنہ 2013 سے روئٹرز کی پاکستان اور افغانستان میں بیورو چیف تھیں۔

روئٹرز کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ادارے کے دفتر میں بے ہوش ہو گئی تھیں۔

بیان کے مطابق انھیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ڈاکٹر ان کی جان بچانے میں ناکام رہے۔

مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر عبدالستار نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ماریہ گلوونینا بظاہر بیمار تھیں اور ان کی موت ہسپتال پہنچ کر ہی ہوئی۔

اہلکار کے مطابق لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اب لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں روسی سفارتخانے کے حکام سے رابطہ کریں جو کہ ماریا کے اہلِ خانہ سے بات کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کروانے یا نہ کروانے کا فیصلہ کریں گے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق بظاہر ماریا کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ غیر ملکی خاتون صحافی طبعی موت مری ہیں۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ ماریا گلوونینا 2001 میں ادارے سے وابستہ ہوئی تھیں اور اسلام آباد آنے سے قبل لندن، سنگاپور، ماسکو اور عراق میں کام کر چکی تھیں۔

اسی بارے میں