’سی آئی اے کے خلاف مقدمے سے سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ برس جون میں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کی درخواست پر اس کیس کی سماعت شروع کی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے متعلق درخواست پر پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں سٹیشن چیف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تو دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے پاس پاکستان میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن چیف جوناتھن بینکس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں کیونکہ مذکورہ امریکی شہری کو سفارتی استثنی حاصل ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں دفن ہیں اور اسلام آباد پولیس کو ان لاشوں کے پوسٹ مارٹم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے ساتھ پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی مصدقہ نقل بھی لف کی گئی ہے جس کے مطابق ڈرون حملے قبائلی علاقوں میں ہو رہے ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار اُن علاقوں تک نہیں ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کے سابق سٹیشن مینجر کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم فاٹا سیکرٹریٹ بھجوا دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں سرکاری وکیل نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ اس ضمن میں وزارت خارجہ کا موقف سُنے بغیر کوئی فیصلہ نہ دیا جائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ برس جون میں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کی درخواست پر وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو پاکستان میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن مینجر جوناتھن بنیکس اور قانونی مشیر جان اے ریزو کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم تھا تاہم ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی ان درخواستوں کی سماعت کرر ہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر ہر صورت میں عمل درآمد ہوگا۔

عدالتِ عالیہ نے بدھ کے روز اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو عدالت میں طلب کرر کھا ہے۔

عدالت نے مقدمہ درج نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو اپنے شہریوں کے جان ومال کی اہمیت کا کوئی احساس نہیں ہے۔

اسی بارے میں