آوران زلزلے کے 3500 متاثرین تاحال معاوضے کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آوارن کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے اور وہ اس جدید دور میں بجلی کی سہولت سے محروم ہے

بلوچستان کے ضلع آواران میں 2013 میں آنے والے زلزلے کے متاثرین میں سے ساڑھے تین ہزار افراد کو 17 ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود مکانات کی تعمیر کے لیے تاحال معاوضہ فراہم نہیں کیا جاسکا۔

ضلع آوارن اور اس سے متصل ضلع کیچ کے بعض علاقے 24 ستمبر 2013 کو آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار ہوئے تھے۔

اس زلزلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 400 افراد ہلاک جبکہ 599 زخمی ہوئے تھے۔

ابتدائی سروے کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 30 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہوئے تھے لیکن بعد میں حکام نے ان کی تعداد 16 ہزار بتائی۔

ڈپٹی کمشنر آواران اور گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عزیز جمالی کا کہنا ہے اب تک ساڑھے 12 ہزار متاثرین کو امداد فراہم کی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں ساڑھے 7ہزار سے زائد لوگوں نے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو امددی چیک کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور ہم ایک ماہ میں تمام 16ہزار افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے چیک فراہمی کا ٹارگٹ حاصل کر لیں گے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کا تاحال 3500 متاثرین کو معاوضے کی رقم کی عدم فراہمی کی وجوہات کے بارے میں کہنا ہے کہ بعض لوگ موسمی نقل مکانی اور بعض یہاں کی حالات کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ان کے گھروں پر چیک دیے جارہے ہیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت مجموعی طور پر چار ارب روپے فراہم کر رہی ہے۔

گھروں کی تعمیر کے لیے جو طریقہ اپنایا گیا ہے اس کے تحت حکومت لوگوں کو گھر بناکر نہیں دے رہی۔

عزیز جمالی کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے متاثرین کو تکنیکی معاونت فراہم کی جارہی ہے جس کی افادیت کے بارے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایک تو تمام رقم متاثرین کو ملے گی جبکہ اس کے علاوہ وہ تعمیراتی کام میں مصروف ہوکر منفی سرگرمیوں سے بھی دور رہیں گے۔

آوارن کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے اور وہ اس جدید دور میں بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔

متاثرین کو ایک گھر کی تعمیر کے لیے حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ روپے فراہم کیے جار ہے ہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو لاکھ 20ہزار گھر کی تعمیر جبکہ 30 ہزار روپے سولر سسٹم کے زریعے بجلی کی فراہمی کے لیے ہیں۔

اسی بارے میں