ادبی میلےمیں دولت اسلامیہ پر بحث کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تین روز تک جاری رہنے والے اس میلے میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد نے شرکت کی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے سالانہ ادبی میلے کے آغاز سےٹھیک دو دن قبل ایک خود کش حملہ ہوا۔

تین روزہ ادبی میلے کے شروع ہونے سے ایک رات قبل صوبائی حکومت نے سیکورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے میلے کو روکنے کی کوشش کی۔

جیسے ہی میلہ ہوا شروع ہوا، سارے خدشات اور مایوسی کے تاریک بادل کب روشن صبح میں تبدیل ہوگئے پتہ ہی نہیں چلا۔

کسی نے مجھ سے ٹوئٹر پر پوچھا ’ادبی میلہ؟ وہ بھی لاہور میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 20 فروری کو گیارہ بجے لاہور کے ادبی میلے کا افتتاح بھارت سے آنے والی 83 سالہ تاریخ دان رومیلا تھاپر نے کیا

قاہرہ سے میرے ایک دوست نے مجھے ای میل کی اور پوچھا ’کیا لاہور جانا محفوظ ہے؟

ان کا کہنا تھا ’میرے گھر والے لاہور میں خودکش حملے کی خبر سننے کے بعد بے حد فکر مند ہیں۔‘

اسی ڈر کی وجہ سے بعض سفارت کاروں نے میلے میں شرکت کرنے کا اپنا فیصلہ منسوخ کر دیا۔

میلے کے مقام پر سیکورٹی کے سخت اتنظامات تھے، فوج نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کی پوری حفاظت کریں گے۔

20 فروری کو گیارہ بجے لاہور کے ادبی میلے کا افتتاح بھارت سے آنے والی 83 سالہ تاریخ دان رومیلا تھاپر نے کیا۔

تاریخ کے بارے رومیلا تھاپر نے کہا ’ یہ حال اور فرض کر لیےگئے ماضی کے درمیان بات چیت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ادبی میلے میں ماضی کے ادیبوں کی تخلیقات پیش کی گئیں اور مختلف زبانوں کی تخلیقات کو محفوظ رکھنے پر زور دیا گیا

اس ادبی میلے میں بحث کا موضوع شدت پسندی کی شکست میں جکڑے ملک کے اس تاریخی شہر کے مستقبل کی فکر تھی۔ اس کے علاوہ میلے میں فن کاروں اور سماجی کارکنوں کو لاحق خطرات پر بھی بات ہوئی۔

ادبی میلے میں ماضی کے ادیبوں کی تخلیقات پیش کی گئیں اور مختلف زبانوں کی تخلیقات کو محفوظ رکھنے پر زور دیا گیا۔

اگر پاکستان کے ادبی مستقبل کی بات کریں تو اس کی ڈور کامیلا شمسی، صبا امتیاز، محسن حامد اور مونی محسن جیسے ادیبوں کے ہاتھوں میں ہے۔

مستقبل کا انحصار اس امید پر ہے کہ ملک کو درپیش برسوں پرانے تنازعات آنے والے سالوں میں حل ہوجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’باغات کا شہر‘ کہلائے جانے والے لاہور کے الحمرا آرٹس سینٹر میں پاکستان کے روشن مستقبل کی امید لیے لوگوں نے میلے میں دل کھول کر شرکت کی

اس ادبی میلے کا مرکز صرف ادب ہی نہیں بلکہ سیاست بھی تھا۔

ایک سیشن میں بڑی تعداد میں موجود لوگوں سے جب یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے تلخ رشتوں میں نیا اور مثبت موڑ آ رہا ہے تو سب نے ایک آواز میں کہا ’ہاں، ضرور۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ادبی میلے کے ایک سیشن کا موضوع تھا ’بھارت اور پاکستان کے رشتے۔‘ اس سیشن کے دوران اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا افغان طالبان کے ساتھ امن اور سیکورٹی کی کوششوں میں چین ایک ثالت کا کردار ادا کرسکتا ہے؟

اس ادبی میلے میں موجود لوگوں کے تاثرات جاننے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہاں کا ہر شخص پاکستان کے بہتر مستقبل کا تصور کرتا ہے۔ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ ، ملک کی ترقی کی خواہش اور اس کو لاحق خطرات کا علم واضح تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

میلے کی منتظمین میں سے ایک، نامور صحافی اور ادیب احمد رشید نے جب ’ہم، ماڈرن مسلمانوں‘ کے درمیان رابطے کی بات کہی تو انھیں وہاں موجود لوگوں نے تالیں بجا کر داد دی۔

اس کے علاوہ اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ کیا افغان اور پاکستان کے طالبان سے مذاکرات ممکن ہیں اور یہ مذاکرات کرنے بھی چاہییں یا نہیں؟ اور کیا بھارت اور چین جیسے طاقتور پڑوسی ممالک پاکستان کے دوست ہیں یا دشمن اور آزادی اظہار کی کیا حدود ہونی چاہیں؟ میلے میں شریک ایک شخص نے ٹوئٹر کے ذریعے چارلی ایبڈوکے کارٹونسٹ کی ہلاکت کی حمایت کی۔

میلے میں شریک لبنان کے ناول نگار ربی علیم الدین نے مشرقی وسطیٰ کے بارے میں منعقد ایک سیشن میں کہا ’ہم ادبی میلے میں دولت اسلامیہ پر کیوں بحث کر رہے ہیں؟ اس پر بیشتر لوگوں نے قہقہے لگائے۔

اس میلے میں خواتین کے مسائل اور ’فیمنسٹ‘ لٹریچر پر بھی بات ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس ادبی میلے میں موجود لوگوں کے تاثرات جاننے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہاں کا ہر شخص پاکستان کے بہتر مستقبل کا تصور کرتا ہے

امریکی ناول نگار ایو انسلر جو اپنی کتاب ’وجینا مونولوگ‘ کی وجہ سے مشہور ہیں نے اپنی کتاب ’ان دی باڈی آف دی ورلڈ‘ پر بات کی۔ اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار روجر کوہن نے اپنی کتاب ’دی گرل فرام ہیمون سٹریٹ‘ پر بات کی۔

تین روز تک جاری رہنے والے اس میلے میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد نے شرکت کی۔

’باغات کا شہر‘ کہلائے جانے والے لاہور کے الحمرا آرٹس سینٹر میں پاکستان کے روشن مستقبل کی امید لیے لوگوں نے میلے میں دل کھول کر شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس میلے میں خواتین کے مسائل اور ’فیمنسٹ‘ لٹریچر پر بھی بات ہوئی

لاہور کے سبز باغات، مزے دار کھانے اور لوگوں کی دریا دلی نے میلے میں شریک مختلف ممالک سے آئے لوگوں کو جذباتی کردیا۔

مصری ادیب یاسمین الرشید کا کہنا تھا ’لاہور مجھے قاہرہ کی یاد دلاتا ہے۔‘

لبنان کے ادیب ربی علیم الدین کا کہنا تھا ’لاہور کئی معنوں میں بیروت جیسا ہے۔

ہوسکتا ہے ان کا مطلب ہو کہ ان کے شہر کی طرح لاہور کو بھی اس کی خوبصورتی اور روح دونوں کو محفوظ رکھنے کے چلینج کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں