’اپنی مرضی سے افغانستان واپس نہیں آئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’افغان مہاجروں کو حراساں کرنے اور بلاجواز گرفتاریاں ان کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کررہی ہیں‘

عبدالصمد کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے لیکن وہ اور ان کی اہلیہ ہنی مون پر جانے کے بجائے اپنے پانچ دیگر رشتے داروں کے ساتھ تھوڑا بہت گھریلو سامان لے کر طورخم کے راستے پاکستان سے افغانستان چلے گئے۔

عبدالصمد اور ان کے خاندان والوں کی طرح اس برس کے آغاز سے ہزاروں افغان پناہ گزین سرحد عبور کر کے واپس افغانستان جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی جانب کیے گئے ایک سروے میں ان پناہ گزین خاندانوں سے بات کی گئی جو برسوں سے پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کو ہراساں کیا جانا اور ان کی بلاجواز گرفتاریاں انھیں ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں۔

ان پناہ گزینوں نے بتایا کہ دسمبر میں پشاور کے فوجی سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ان کے خلاف اس طرح کے واقعات میں شدت آئی ہے: ’جب بھی پشاور، کراچی یا پاکستان میں کہیں بھی بم دھماکہ ہوتا ہے تو وہ افغانوں پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ سب کے سب طالبان ہیں۔‘

افغانستان جانے والے ان افراد کی طرح عبدالصمد کے خاندان والوں کا بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے واپس افغانستان نہیں آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جب بھی پشاور، کراچی یا پاکستان میں کہیں بھی بم دھماکہ ہوتا ہے تو وہ افغانوں پر یہ الزام عائد کرتے کہ سب کے سب طالبان ہیں۔‘

انھوں نے بتایا ’میں اپنے گھر میں اپنی بیوی، بھائی اور ماں کے ساتھ سو رہا تھا کہ رات کے اندھیرے میں پولیس دیوار کود کر ہمارے گھر میں داخل ہوئی اور پوچھنے لگی کہ ہم کتنے افراد اس گھر میں رہ رہے ہیں۔‘

ان کا مزيد کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے شناختی کارڈ کا مطالبہ کیا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہے تو انھیں اپنے ساتھ لے گئی۔

’اس رات انھوں نے میری بہت پٹائی کی اور اگلے دن 35 ہزار روپے دے کر میری رہائی ممکن ہو سکی۔‘

طورخم کی سرحد پر پہنچنے والے پناہ گزینوں سے بھی بی بی سی کو اسی طرح کی باتیں سننے کو ملیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر اوقات خاندان کے مردوں کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ برا برتا‎‎‎‎‌‎ؤ کیا گیا تاکہ وہ واپس افغانستان جانے پر مجبور ہو جائیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

غلام نبی نامی ایک شخص نے بتایا کہ انہیں ایک ہفتے کے لیے حراست میں رکھا گیا، ’مجھے آٹھ دن کے لیے جیل میں رکھا گیا۔ اس کے بعد میں واپس گھر گیا اور سرحد پار کرنے کے لیے اپنا سامان باندھ لیا۔‘

افغان حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور حملے کے بعد روزانہ 150 سے 300 خاندان ملک واپس آ رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظيم آئی او ایم کا کہنا ہے جنوری سے اب تک 35,000 افراد واپس افغانستان واپس آچکے ہیں۔ یہ تعداد سنہ 2004 کی نسبت ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے ’ہمارے ساتھ جن افراد کی بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ حراست میں لیا جانا، گرفتاریاں اور پولیس کے ہاتھوں ہراساں کیا جانا ان کی ملک واپسی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔‘

دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے افغان پناہ گزینوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کسی مہم کے تحت نہیں ہوئی ہیں۔

تاہم پشاور حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس افغان طالبان کی تلاش میں مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ بعض ’غیر قانونی‘ تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پاکستانی حکام کا کہنا ہے افغان مہاجروں کے خلاف اس طرح کی کاروائیاں کسی مہم کے تحت نہیں ہوئی ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے انہیں ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی ہے جو غیر رجسٹرڈ مقامات پر رہ رہے ہیں۔ حکومت کو معلوم ہے کہ جو غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں وہ پولیس کے پاس نہیں جائیں گے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی واپسی سے ان کے کام میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پناہ گزینوں کے امور کے وزیر سید حسین عالمی بلخی یکم مارچ کو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی حکام سے کہیں گے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو مزید مدت تک ملک میں رہنے دیں تاکہ ان کی واپسی پر ان کے رہنے کا انتظام کیا جاسکے۔

جو پناہ گزین واپس گئے ہیں ان میں بعض خوش ہیں کہ وہ اپنوں کے ساتھ رہیں گے لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو روزی، روٹی اور ایک چھت کی فکر کھائے جارہی ہے۔

اسی بارے میں