’پاکستان میں داعش کا وجود نہیں مگر خطرے سے آگاہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’دولت اسلامیہ سے متعلق آرمی چیف اور وزیر داخلہ بھی پاکستان کا موقف واضح کر چکے ہیں‘

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ ملک میں دولت اسلامیہ کا وجود نہ ہونے کے باوجود حکومت اس کے خطرے سے پوری طرح آگاہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں تمام مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ تنظیم پاکستان میں اپنے قدم نہ جما پائے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں میں اس تنظیم سے متعلق وال چاکنگ کرنے پر کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم اُنھوں نے زیرِ حراست افراد سے اس بارے میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ تفتیش سے متعلق وزارت داخلہ یا دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا سے رابطہ کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ سے متعلق آرمی چیف اور وزیر داخلہ بھی پاکستان کا موقف واضح کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’مختلف شہروں میں خلافتِ اسلامیہ سے متعلق وال چاکنگ کرنے پر کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے‘

واضح رہے کہ خارجہ امور سے متعلق ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکام کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا دولت اسلامیہ کے ساتھ کوئی جغرافیائی تعلق نہیں ہے تاہم سیکیورٹی ادارے دولت اسلامیہ کی کاروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر کی پاکستان آمد کے بارے میں سوال پر تسنیم اسلم نے سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوئے ہیں تو اس میں مسئلہ کشمیر، سیاچن، پانی، تجارت اور اعتماد کی بحالی کے بارے میں بات چیت ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ indianembassy
Image caption ’بھارتی سیکرٹری خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان 13 فروری کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا نتیجہ ہے‘

تاہم ترجمان نے بھارتی سیکرٹری خارجہ کی وزیر اعظم اور خارجہ امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ متوقع ملاقات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی مصروفیات کی وجہ سے اقوام متحدہ امن مشن کے تحت فوجی بھیجنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت خدمات سرانجام دے چکے ہیں جبکہ 140 سے زائد پاکستانی اہلکار اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں