کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر تنبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اٹارنی جنرل کے جواب سے مطمین نہ ہوئی تو سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے سے نہیں چوکے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر ملک کے چیف ایگزیکٹیو سمیت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جمعے کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فوجی چھاؤنی کے علاقے میں سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم میں ملک میں بلدیاتی انتخابات کراونے کی بات کی گئی ہے اور اس ترمیم کو پاس ہوئے بھی پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

درخواست گزار رب نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک میں بلدیاتی انتحابات کروانے کے لیے جاری کیے جانے والے احکامات کو بھی تین سال ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے جسٹس جواد ایس خواجہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی ذمہ داری ہے اور اگر حکومت نے ایسا نہیں کرنا تو پھر اس آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور اگر وزیر اعظم بھی اس عدالتی احکامات پر عمل درآمد پر حائل ہوئے تو اُنھیں بھی توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر ملک کے وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر چکی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو طلب کیا اور کہا کہ وہ فی الحال وزیر اعظم کو توہین عدالت میں نوٹس جاری نہیں کر رہے لیکن وہ عدالت کو بتائیں کہ کیا بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اٹارنی جنرل کے جواب سے مطمئن نہ ہوئی تو سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے سے نہیں چوکے گی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسے قوانین کی پروا نہ کرے جو ان انتخابات کے انعقاد میں حائل ہو رہے ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ’کوئی قانون الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکتا، اگر کوئی اس بارے میں سپریم کورٹ سے رابطہ کرے گا تو عدالت خود ہی پوچھ لے گی کہ 18ویں ترمیم آئین کا حصہ بننے کے باوجود بھی ابھی تک بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں ہوئے۔‘

سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اس سال کے وسط میں، پنجاب میں اس سال نومبر میں جبکہ سندھ صوبے میں اگلے سال کے شروع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت تین مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں