سندھ میں ڈاکو پکڑنے کے لیے ڈرون کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکھر پولیس اپنے دستیاب وسائل سے ہی ڈرونز خرید رہی ہے

پاکستان میں ڈرونز کا استعمال پہلے امریکہ اور پھر میڈیا ہاؤسز نے کیا لیکن اب صوبہ سندھ کے ضلع سکھر کی پولیس ڈاکوؤں کو پکڑنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔

ایس ایس پی سکھر تنویر حسین تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں زیادہ تر چھاپے کچے کے علاقے میں مارے جاتے ہیں جہاں ڈاکوؤں نے اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان جگہوں تک رسائی کے وقت فائرنگ کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ گولیاں کس سمت سے آ رہی ہیں اور ڈرون ایسے مواقع پر مددگار ثابت ہوں گے۔

دریائے سندھ کے دونوں اطراف دریا کے قریبی علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے، جہاں گھنے جنگلات موجود ہیں جن میں ڈاکو چھپ جاتے ہیں۔

ایس ایس پی تنویر حسین کے مطابق ڈرون کی مدد سے غیر ضروری نقصان سے بچا جاسکتا ہے اور اس کی نگرانی کے ذریعے ڈاکوؤں کے فرار کو بھی ناممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ ہدف کی نشاندہی کے لیے ڈرون سب سے بہترین ٹیکنالوجی ہے کیونکہ یہ جی پی ایس یعنی گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی مدد سے اپنے ہدف کی نشاندہی کر سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکھر پولیس کے مطابق اس نگران ڈرون کا استعمال جنگل کے علاوہ شہر میں بھی کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ یہ فائرنگ کی زد میں نہ آ پائے باقی اس کا استعمال آسان ہے۔‘

کچے کے علاقے کی نگرانی کے اس تجربے کے لیے سکھر پولیس کو سندھ حکومت سے اضافی فنڈز بھی درکار نہیں تھے۔

ایس ایس پی تنویر حسین کے مطابق مقامی وسائل سے ان ڈرونز کی خریداری کی گئی ہے اور ایک خصوصی گاڑی بھی تیار کروائی جا رہی ہے جہاں سے ڈرون استعمال کیے جائیں گے اور ان کی نگرانی کی جائےگی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری ضرورت یہ ہے کہ ڈرون کی رینج دو سے تین کلومیٹر ہو اور وہ رات کے اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘

سکھر پولیس کے مطابق اس نگران ڈرون کا استعمال جنگل کے علاوہ شہر میں بھی کیا جائے گا۔

تنویر حسین کے مطابق سکھر میں ٹریفک جام رہتا ہے اور اس ڈرون کی مدد سے شہر میں ٹریفک کے مسائل کی نشاندہی اور انہیں حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔

اس ڈرون کا ایک کام وی آئی پی شخصیات کے سفر کے مقررہ راستوں کی نگرانی بھی ہوگی۔

تنویر حسین کے مطابق ’مختلف مقامات پر اہلکاروں کو تعینات تو کر دیا جاتا ہے لیکن تمام روٹ کی نگرانی ممکن نہیں ہوتی تاہم اب اس کے لیے بھی ڈرون کی مدد لی جا سکے گی۔‘

اسی بارے میں