سینیٹ کی 52 نشستوں کے لیے 131 امیدوار میدان میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینٹ انتخابات پانچ مارچ کو منعقد ہوں گے

پاکستان کے ایوان بالا کے پانچ مارچ کو 52 نشستوں پر منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے 131 امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حمتی فہرست کے مطابق 66 امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزادگی واپس لے لیے ہیں۔

دالحکومت اسلام آباد میں عام نشستوں کے لیے چار جبکہ خواتین کی مخصوص نشستیوں کے لیے بھی چار امیدوار ہی میدان میں ہیں۔ یہاں نمایاں نام مسلم لیگ ن کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا کا ہے۔

عام نشستوں کے لیے فاٹا سے 36 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔

صوبہ پنجاب میں عام نشستوں کے لیے 11 ، صوبہ سندھ سے آٹھ، صوبہ بلوچستان سے 14، صوبہ خیبرپختونخوا سے 12 امیدوار حصہ لیں گے۔

صوبہ پنجاب سےعام نشستوں کے لیے اہم ناموں میں سرِفہرست نام وفاقی وزیرِ قانون اور وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا ہے، مسلم لیگ (ق) کے مشاہد اللہ خان اور لیفٹینیٹ جنرل (ر) عبدلقیوم کا ہے۔

عام نشستوں پر سب سے زیادہ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے والوں میں صوبہ سندھ کے امیدوار شامل ہیں۔ جہاں سے کل 18 میں سے 10 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔

ان امیدواروں میں ایم کیو ایم کے بابرغوری اور وسیم اختر نے شامل ہیں جبکہ مقابلہ کرنے والوں میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت اور پیپلز پارٹی کے رحمٰن ملک اہم نام ہیں۔ رحمٰن ملک جو سینیٹر کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں اب ٹیکنوکریٹس کی نشست کے لیے بھی امیدوار ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا سےعام نشستوں کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل، جماعتِ اسلامی کے سراج الحق اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے عطاالرحمٰن نمایاں ہیں۔

صوبہ بلوچستان کی عام نشستوں کے لیے17 امیدواروں میں جماعتِ اسلامی کے مولانا عبدالغفور حیدری اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل خان بزیجو اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد اسلم بولیدی کا نام بھی شامل ہے۔

حتمی فہرست کے مطابق چاروں صوبوں اور وفاق سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے کل 21 امیدواروں باہم مقابلے میں ہوں گی جبکہ چھ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لیے۔

علما اور ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں کے لیے 18 امیدوار میدان میں ہیں جن میں تین پنجاب، دو سندھ اور چھ خیبرپختونخوا سے جبکہ سات بلوچستان سے ہیں۔ غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستوں میں صرف صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان شامل ہے جہاں سے بلترتیب تین اور پانچ امیدوار میدان میں اتریں گے۔

اسی بارے میں