پاکستانی سماج سے کچھ چھن گیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں بازار اشیائے خوردونوش سے بھرے ہیں اور ریسٹورنٹس پر بھی رش کم نہیں

پاکستان میں حالانکہ سب کچھ ہے۔ جمہوری ہو نہ ہو مگر ایک منتخب نظامِ حکومت ہے۔ میڈیا آزاد نہیں ہے بے لگام ہے۔

کہنے کو جیلوں میں کوئی سیاسی قیدی بھی نہیں۔ آپ فوج، عدلیہ، بیورو کریسی، سیاستدانوں (الطاف حسین اور عمران خان کو چھوڑ کر) اب تو دوست ممالک پر بھی تنقید کر سکتے ہیں۔ اپنی ذمہ داری پر لکھ اور بول بھی سکتے ہیں۔

اکثریت کو (بلوچوں کو چھوڑ کر) یہ خطرہ بھی نہیں کہ آدھی رات کو دستک ہوگی اور گھر کا ایک بندہ کم ہو جائے گا یا سودا لینے یا نماز پڑھنے جائے گا اور پھر نہیں آئے گا۔

بظاہر پاکستان اس وقت نہ تو سرد جنگ کے زمانے کا مالیخولیائی مشرقی جرمنی یا رومانیہ ہے، نہ ہی 60 کی دہائی کا سہارتوئی انڈونیشیا یا 70 کی دہائی کا ساواکی ایران یا جرنیلی ارجنٹینا اور نہ ہی آج کا فاشسٹ مصر یا خاندان گذیدہ سعودی عرب یا انارکانہ شام۔ پاکستان افریقہ کا خانہ جنگ کانگو اور کھنڈرائی صومالیہ بھی نہیں۔

یہاں پٹرول سستا ہے، بازار اشیائے خوردونوش سے بھرے ہیں۔ریسٹورنٹس پر بھی رش کم نہیں۔ ادبی و ثقافتی پروگرام بھی حسبِ سابق جاری ہیں۔ کتابیں بھی دھڑا دھڑ چھپ رہی ہیں۔ فلمی صنعت بھی قبر سے باہر آ رہی ہے۔ لوگ لطیفے سناتے بھی ہیں ان پر ہنستے بھی ہیں اور موبائل فون کے سیلفیانہ بخار میں بھی باقی دنیا کی طرح پھنکتے ہیں۔ کرپشن کو ہنس کے یہاں بھی ایسے ہی ٹالا جاتا ہے جیسے نائجیریا، بنگلہ دیش، بھارت اور افغانستان وغیرہ میں۔ امریکہ کو کھل کے گالی دینا بھی حسبِ سابق ہے۔

پاکستان میں عمومی عدم تحفظ کے باوجود مساجد، امام بارگاہیں، گرجے، مندر اور شادی ہال ویسے ہی کھچا کھچ بھرے ہیں جیسے کہ بھرے ہونے چاہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں قوانین اور ان پر عمل درآمد اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا کسی بھی ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے

معاشقوں پر بھی اتنی ہی روک ٹوک ہے جتنی ہمارے بچپن میں تھی۔تاکا جھانکی کی شرح میں بھی کوئی کمی نہیں۔

ٹی وی کی فحاشی و عریانی پر بھی وہی چیخ و پکار ہے جیسی ٹی وی آنے سے پہلے تھی۔ قوانین اور ان پر عمل درآمد اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا کسی بھی ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔

بھکاری سے لے کر صنعت کار تک سب ہی کل کی طرح روتے بھی جاتے ہیں، کماتے بھی جاتے ہیں اور ٹیکس بھی نہیں دینا چاہتے۔ منافقت کا گراف بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ دھینگا مشت انسانی معاشروں میں ہوتا ہے۔ شراب اتنے ہی لوگ چھپ کے پیتے ہیں جتنے کبھی کھلم کھلا پیتے تھے۔ حرام و حلال کے انفرادی پیمانے جیسے پہلے تھے ویسے ہی آج بھی ہیں۔

غصہ پہلے بھی لوگوں کی ناک پر تھا آج بھی ہے۔حسد، کینہ، بغض، شیطنیت، انسانیت، خواتین کا احترام و بے حرمتی، بچوں کی پرورش و عدم پرورش سب کچھ وہی ہے جو کسی بھی فوجی و سویلین، دائیں یا بائیں کے دور میں ہوتا ہے۔

پھر بھی کچھ ہے جو پاکستانی سماج سے چھن گیا ہے۔

مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ کیا چھن گیا ہے مگر ہاں لوگ اب خالص جھوٹ یا خالص سچ بولتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ دل کھول کے سامنے نہیں رکھتے بلکہ سامنے والے کا ذہنی ناپ لے کر ایسا باتونی لباس سیتے ہیں جو سننے والے کو تنگ محسوس نہ ہو۔ سب پرتپاک ہیں لیکن کسی کو کسی پر یقین نہیں کہ کس کے ڈانڈے کہاں پر مل رہے ہیں۔ میرے منہ سے نکلی بات کا دوسرا کیا مطلب لے گا اور اس پر کیا ردِعمل دے گا۔ یہ ردِعمل فوری ہوگا یا بعد میں کسی اور شکل میں سامنے آئے گا۔

سب بظاہر ایک دوسرے کو فیس ویلیو پر لے رہے ہیں۔ الفاظ وہی ہیں مگر گودا غائب ہے۔ میز پر گفتگو کے چھلکوں کا نادیدہ انبار ہے۔ روز ساتھ بیٹھنے والوں میں اب یہ لاشعوری احتیاط اور ٹٹول بھی در آئی ہے کہ مکھوٹھے کے پیچھے کیا ہے۔ کہیں یہ بھیڑیا تو نہیں، سور تو نہیں، تیندوا تو نہیں، بندر تو نہیں، طوطا، چڑیا تو نہیں۔

ہو سکتا ہے جسے میں خرگوش سمجھ رہا ہوں دراصل سانپ ہو اور جو کل تک مینا تھی آج وہی مینا دراصل۔

ہاں یہی سماج تھا جہاں ننگی تپتی آمرانہ فضا میں بھی کوئی بات کہتے ہوئے دائیں بائیں نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔ حساس ترین مذہبی و غیر مذہبی معاملات پر الجھتے ہوئے بھی کوئی اندر سے لگامیں نہیں کھینچتا تھا۔رک جا، ابے رک جا، پاگل ہوگیا ہے کیا۔

لیکن اب یوں لگتا ہے کہ ہوا تیز چل رہی ہے مگر سانس رک رہی ہے۔ بظاہر کوئی کسی پر نگراں نہیں مگر ہر کوئی اپنا ہمہ وقت نگراں ہے۔ سب آزاد گھوم رہے ہیں مگر اپنی سوچ اور روح اپنی ہی زنجیروں میں جکڑے ہوئے۔ صرف اس لالچ میں کہ اس جیسی کیسی زندگی کے چند دن اور میسر آ جائیں کہ جس زندگی سے ہر کوئی تنگ ہے۔

اسی بارے میں