چمن میں فائرنگ سے دو افغان شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو افغان شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

دونوں افغان شہریوں پر حملے کا واقعہ اتوار کو سرحد کے قریب بوغرہ کے علاقے میں پیش آیا۔

چمن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دونوں افراد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کے بعد ایک گاڑی میں چمن شہر کی جانب آ رہے تھے۔

نامعلوم مسلح افراد نے بوغرہ کے علاقے میں اس گاڑی کو روکا جس میں وہ آرہے تھے۔

گاڑی سے اتارنے کے بعد مسلح افراد نے دونوں ان کوکہیں لے جانے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں ناکامی کے بعد دونوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے دونوں افراد کا تعلق افغانستان کے صوبے ہلمند سے تھا اور وہ دونوں آپس میں بھائی تھے۔

دونوں افغان شہریوں کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔تاہم اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے افراد میں سے ایک پہلے ہی افغانستان سے زخمی حالت میں آیا تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ زخمی شخص کو علاج معالجے کے لیے پاکستان لایا گیا تھا۔

ایک اور واقعہ میں ضلع سبی میں فرنٹیئر کور اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ میں ایف سی کے چار اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق ضلع سبی کے علاقے لہڑی میں ایک فراری گروپ سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے ایف سی کی گشتی پارٹی پر حملہ کیا۔

ترجمان کے مطابق جوابی فائرنگ سے دو حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے فراریوں کا تعلق ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے ہے۔

ادھر سبی سے متصل ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے لوٹی کے علاقے میں ایک گیس پائپ لائن کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے گیس پائپ لائن کا کچھ حصہ تباہ ہوا اور اس سے گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

گیس پائپ لائن کو اڑانے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں