’ کراچی کا ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی جرم کا شکار‘

Image caption لیاری کا علاقہ انفرادی لحاظ سےسب سے خطرناک علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہائش پذیر ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی طرح کے جرم کا شکار ہو چکا ہے۔

بی بی سی اردو کے لیے گیلپ پاکستان کے کراچی میں کروائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی شہر کی قریباً نصف آبادی رہزنی، ڈکیتی یا چوری یا اسی نوعیت کے کسی نے کسی ناخوشگوار تجربے سے گزر چکی ہے۔

کراچی میں جرائم کا کلک ایبل نقشہ

کراچی کے اٹھارہ ٹاؤنز میں 17 نومبر 2014 سے 27 نومبر 2014 کے درمیان ہونے والے اس سروے میں مختلف عمر، طبقے، قومیت، لسانی گروہوں اور پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کبھی ان کے یا ان کے گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد ساتھ جرم کی کوئی واردات ہوئی ہے؟

جن جرائم کی فہرست ان افراد کے سامنے رکھی گئی ان میں راہزنی (راہ چلتے موبائل فون یا پرس وغیرہ کا چھینا جانا)، موٹر سائیکل یا گاڑی کا چھینا جانا، ڈکیتی، بھتے کی وصولی اور اغوا شامل ہے۔

کراچی میں رہنے والے 46 فیصد افراد نے کہا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی فرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار سٹریٹ کرائم کا شکار ہوا ہے جبکہ سروے میں شامل ہر چار میں سے ایک فرد نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس جرم کا نشانہ بن چکا ہے۔

خطرناک اور محفوظ ترین علاقے

اس سروے کے مطابق ’سٹریٹ کرائمز‘ کے لحاظ سے اورنگی ٹاؤن سرفہرست ہے جبکہ نیو کراچی میں رہنے والوں نے ان جرائم کا باقی شہر کی نسبت کم سامنا کیا۔

اورنگی ٹاؤن میں رہنے والے خاندانوں میں سے 65 فیصد کسی نہ کسی نوعیت کے جرم کا سامنا کر چکے ہیں جبکہ نیو کراچی میں سب سے کم تناسب یعنی 28 فیصد گھرانوں نے جرائم سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

کراچی کا علاقہ لیاری انفرادی لحاظ سےسب سے خطرناک علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں کی قریباً نصف آبادی کبھی نہ کبھی لٹ چکی ہے۔

سروے میں شامل 43 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر جرم کی واردات ہو چکی ہے۔

افراد کے ساتھ جرم کی وارداتوں کا سب سے کم تناسب نیو کراچی میں پایا گیا جہاں صرف آٹھ فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جرم کی واردات کا سامنا کیا ہے۔

جن علاقوں میں رہنے والی نصف یا اس سے زائد آبادی زندگی میں کم از کم ایک بار کسی نہ کسی جرم کی واردات کا سامنا کر چکی ہے ان میں لیاری کے علاوہ ، کیماڑی، جمشید ٹاؤن، بلدیہ، اور لیاقت آباد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ملیر، سائٹ، صدر، گڈاپ، بن قاسم، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ میں جرائم کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے۔

سروے کے مطابق گلشن اقبال، لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی ایسے علاقے ہیں جہاں 30 فیصد خاندان جرائم کا سامنا کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی میں رہنے والے 35 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا فون کبھی نہ کبھی چھینا جا چکا ہے۔

سب سے عام جرم

کراچی میں موبائل فون چھینا جانا سب سے زیادہ پیش آنے والا جرم بن چکا ہے جس کے بعد پرس چھینے جانے اور پھر موٹر سائیکل چھیننے کا نمبر آتا ہے۔

کراچی میں رہنے والے 35 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا فون کبھی نہ کبھی چھینا جا چکا ہے۔

موبائل فون چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں بلدیہ ٹاؤن میں پیش آتی ہیں جہاں آباد گھرانوں میں سے نصف کسی رہزن کے ہاتھوں، کبھی نہ کبھی اپنے فون سے محروم ہو چکے ہیں۔

تناسب کے لحاظ سے شہر کے باقی علاقوں کی نسبت موبائل فون چھینے جانے کی سب سے کم وارداتیں نیو کراچی میں ریکارڈ کی گئیں جہاں رہنے والے ایک چوتھائی گھرانے اپنے موبائل فون سے محروم ہوئے۔

کراچی میں 14 فیصد خاندان ایسے ہیں جن کے کسی نہ کسی فرد کا فون ایک سے زیادہ مرتبہ چھینا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موبائل فون بھی انہی لوگوں کے زیادہ چھینے جاتے ہیں جو حلیے اور رہن سہن سے ہی امیر دکھائی دیں۔

امیر طبقہ، بڑا ہدف

سروے میں بتایا گیا ہے کہ راہ چلتے وارداتیں کرنے والے افراد اس خاندان کے لوگوں کو زیادہ شکار بناتے ہیں جو رہن سہن سے ’امیر‘ دکھائی دیں۔

سروے میں شامل افراد کے مالی پس منظر کا جائزہ ثابت کرتا ہے کہ امیر طبقے کے ساتھ سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں سب سے زیادہ اور متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے ساتھ کم و بیش ایک جتنی ہی پیش آتی ہیں۔

سٹریٹ کرائمز کا شکار ہونے والے گھرانوں کی بڑی تعداد، یعنی 63 فیصد امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح موبائل فون بھی انہی لوگوں کے زیادہ چھینے جاتے ہیں جو حلیے اور رہن سہن سے ہی امیر دکھائی دیں۔

مخصوص لسانی اہداف

سروے کے مطابق گجراتی بولنے والے افراد کے سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے شکار ہونے کے واقعات زیادہ ہیں۔

سروے میں شامل افراد میں سے 32 فیصد ایسے گجراتی بولنے والے تھے جو کسی نہ کسی شکل میں جرم کا سامنا کر چکے ہیں۔

دوسرا نمبر سرائیکی بولنے والوں کا ہے جن کے نشانہ بننے کا تناسب 20 فیصد ہے۔

لیکن اگر گھرانوں کی بات کی جائے تو پنجابی اور سرائیکی بولنے والے خاندان کے ساتھ واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سندھی بولنے والی خواتین کے ساتھ پرس چھیننے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سروے میں شامل 48 فیصد پنجابی اور سرائیکی افراد نے کہا کہ ان کے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ان وارداتوں کا شکار ہو چکا ہے۔ پشتو بولنے والے گھرانوں میں یہ تناسب سب سے کم 32 فیصد ہے۔

گجراتی بولنے والی خواتین پرس چھیننے والوں کا خاص نشانہ ہیں جن کے ساتھ اس واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے جبکہ ان کے مقابلے میں سندھی بولنے والی خواتین کے ساتھ پرس چھیننے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اسی طرح بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں پنجابی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔

خواتین مشکل ہدف

کراچی میں رہنے والے مردوں کے مقابلے میں راہ چلتی خواتین کو لوٹنے کی وارداتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

سروے بتاتا ہے کہ صرف 14 فیصد خواتین کے ساتھ موبائل فون چھینے جانے کی واردات ہوئی جبکہ مردوں میں یہ تناسب 31 فیصد ہے۔

اسی طرح عام تاثر کے برعکس مردوں کے پرس عورتوں سے زیادہ تعداد میں چھینے جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں میں یہ تناسب دو اور دس کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔

رات کا اندھیرا واردات کے لیے موزوں؟

عمومی تاثر کے برعکس جرائم کی بیشتر وارداتیں معمولی فرق کے ساتھ دن کے اوقات میں بھی اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی اندھیرا چھا جانے کے بعد۔

البتہ بعض وارداتیں ایسی ہیں جو دن کے وقت میں زیادہ دیکھنے میں آئی ہیں۔

سروے میں شامل افراد میں سے بیشتر نے کہا کہ ان کی گاڑی دن کے وقت چھینی گئی تھی جبکہ گاڑی چھینے جانے کا سب سے زیادہ امکان صبح سویرے ہوتا ہے جب لوگ دفتر جا رہے ہوتے ہیں۔

تقریباً 42 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی گاڑی دوپہر بارہ بجے سے پہلے چھینی گئی تھی۔

خواتین کے پرس چھیننے کی کارروائی سہ پہر کے وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جن خواتین کے پرس چھینے گئے ان میں قریباً نصف کے ساتھ یہ واقعہ دن 12 بجے سےسورج غروب ہونے کے درمیان پیش آیا۔

بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ واردات عموماً دوپہر کے بعد اور رات سے پہلے پیش آتی ہے۔

گھروں میں ڈکیتی صبح کے وقت اور رات گئے زیادہ ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔

کراچی بمقابلہ باقی ملک

اسی نوعیت کے سروے کے ذریعے باقی ملک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار اس عمومی تاثر کی تصدیق کرتے ہیں کہ سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔

مثلاً ملک کے باقی شہروں کی نسبت کراچی میں موبائل فون چھیننے کے دوگنا زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔ اسی طرح موٹر سائیکل بھی کراچی ہی میں سب سے زیادہ چھینے جاتے ہیں۔

لیکن بعض جرائم ایسے ہیں جن میں ملک کے دیگر شہر کراچی سے آگے نکل چکے ہیں۔

مثلاً ڈکیتی ایسا جرم ہے جو کراچی کی نسبتاً باقی ملک میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین سے راہ چلتے زیورات چھینے جانے کی وارداتیں بھی کراچی سے زیادہ ملک کے دیگر شہروں میں پیش آتی ہیں۔

کلک ایبل
  • ×
  • اورنگی ٹاؤن

    ×

    اورنگی ٹاؤن کی آبادی گیارہ لاکھ سے کچھ کم ہے۔ کراچی کے مضافات کی بہت سی آبادیاں اس ٹاؤن میں شامل ہیں جن میں بلال کالونی اور غازی آْباد جیسے پشتون اکثریتی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ بی بی سی اور گیلپ پاکستان سروے میں شامل پینسٹھ فیصد گھرانوں نے کہا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی فرد کبھی نہ کبھی کسی نے کسی سٹریٹ کرائم یا ڈاکہ زنی کا شکار ہو چکے ہیں۔ کراچی کے کسی بھی ٹاؤن میں جرائم کی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔

  • بلدیہ ٹاؤن

    ×

    بلدیہ ٹاؤن کراچی میں موبائیل فون چھینے جانے سے متعلق جرائم کے گڑھ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہاں رہائش پذیر گھرانوں میں سے نصف کے ساتھ موبائیل فون چھینے جانے کی واردات ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مردوں کے بٹوے یا پرس اور گھڑیاں چھینے جانے کی وارداتیں بھی سب سے زیادہ بھی بلدیہ ٹاؤن ہی میں ہوتی جہاں ہر چار میں سے ایک گھرانہ اس واردات کا شکار ہو چکا ہے۔

  • نیو کراچی

    ×

    اس سروے میں نیو کراچی جرائم کی شرح کے لحاظ سے شہر کے سب سے 'پر امن' علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں نے جو بیان کیا ہے اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ نیو کراچی میں سٹریٹ کرائمز کی شرح باقی شہر کی نسبت سب سے کم ہے۔ اورنگی کے پینسٹھ فیصد کے مقابلے میں یہاں جرائم کی شرح اٹھائیس فیصد ہے۔ مثال کے طور پر یہاں موبائیل فون چھینے جانے کی وارداتیں بھی شہر بھر میں سب سے کم پیش آتی ہیں۔ نیو کراچی ٹاؤن کی کل آباد دس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور یہ ٹاؤن اکیس کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

  • کیماڑی

    ×

    کیماڑی میں خواتین کو راہ چلتے لوٹنے کی وارداتیں باقی شہر کی نسبت سب سے زیادہ پیش آتی ہیں۔ یہاں رہنے والوں نے بتایا کہ خواتین سے پرس اور زیورات چھیننے کے واقعات کی اوسط شہر میں سب سے زیادہ ہے۔

  • لیاری

    ×

    آبادی بہت زیادہ یعنی ساڑھے نو لاکھ کے قریب اور رقبہ بہت کم یعنی آٹھ کلومیٹر بھی نہیں۔ لیاری کا نام گینگ وار سے جڑا ہے لیکن اس کے علاوہ یہاں سٹریٹ کرائمز بھی بے پناہ ہیں۔ شہر کی آدھی آبادی کسی نہ کسی وقت راہ چلتے یا گھر بیٹھے لٹ چکے ہیں۔ اس لحاظ سے اسے شہر کا سب سے خطرناک علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • سائیٹ

    ×

    اس صنعتی علاقے میں کام کرنے اور رہنے والوں نے بھتہ خوری اور ڈاکہ زنی کی شکایت رہزنی یا دیگر جرائم کی نسبت زیادہ کی ہے۔ سات لاکھ سے زیادہ آبادی کے اس ٹاؤن میں زیادہ تعداد فیکٹری میں کام کرنے والوں کی ہے۔

  • صدر

    ×

    اس علاقے سے بھتہ خوری کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس جرم میں اس ٹاؤن کا مقابلہ جمشید ٹاؤن کرتا ہے جہاں پر اتنی ہی تعداد میں بھتہ خوری کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ساڑھے نو لاکھ آبادی کے اس ٹاؤن میں خواتین کے پرس چھیننے کی وارداتیں عام ہیں جن کا نشانہ بیشتر واقعات میں گجراتی بولنے والی خواتین ہوتی ہیں۔

  • جمشید ٹاؤن

    ×

    آبادی کے لحاظ سے کراچی کے اس سب سے بڑے ٹاؤن میں جٹ لائنز، جیکب لائنز اور پی ای سی ایچ ایس جیسے گنجان آبادی والے علاقے شامل ہیں۔ اس ٹاؤن کی کل آبادی تقریباً گیارہ لاکھ ہے۔ اس ٹاؤن سے بھتہ خوری کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس جرم میں اس ٹاؤن کا مقابلہ صدر کرتا ہے جہاں پر اتنی ہی تعداد میں بھتہ خوری کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں بھی یہ ٹاؤن سر فہرست ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی گیارہ فیصد گھروں میں مجرموں کے گھسنے کی وارداتیں ہو چکی ہیں۔

  • لیاقت آباد

    ×

    دس لاکھ سے ذرا کم آبادی والے اس علاقے میں موٹر سائیکل اور خواتین کے پرس چھیننے کی وارداتیں خاصے تسلسل سے ہوتی ہیں لیکن ان دونوں جرائم میں بھی ٹاؤن پہلے نمبر پر نہیں آتا۔ رقبے کے لحاظ سے لیاقت آباد کراچی کے چھوٹے ٹاؤنز میں شمار کیا جا سکتا ہے کو قریباً گیارہ کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ قاسم آباد اور مجاہد کالونی اس علاقے کی دو ایسی یونین کونسلز ہیں جن کی آبادی ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

  • نارتھ ناظم آباد

    ×

    اس ٹاؤن میں خواتین سے راہ چلتے لوٹ مار کے واقعات باقی شہر کی نسبت زیادہ تعداد میں پیش آتے ہیں۔ خاص طور پر اس علاقے کے رہنے والوں نےباقی شہر کی نسبت خواتین کے زیورات چھینے جانے کی زیادہ شکایات درج کروائیں۔

  • گلبرگ

    ×

    گلبرگ ٹاؤن میں مردوں کے بٹوے یا پرس چھینے جانے کی شرح باقی ٹاؤنز کی نسبت سب سے زیادہ یعنی پچیس فیصد ہے۔ صرف بلدیہ ٹاؤن ہی اس جرم کی شرح کے لحاظ سے گلبرگ ٹاؤن کا مقابلہ کرتا ہے۔

  • گڈاپ

    ×

    رقبے کے لحاظ سے کراچی کے سب سے بڑے ٹاؤن کو کار چھیننے کی وارداتوں کا گڑھ کہنا غلط نا ہو گا کیونکہ یہاں پر اس واقعے کی سب سے زیادہ اطلاعات ملی ہیں۔

  • گلشن اقبال

    ×

    آبادی کے لحاظ سے کراچی کے چند بڑے ٹاؤنز میں شامل ہوتا ہے لیکن جرائم کی شرح کے لحاظ سے گلشن اقبال کچھ درمیانی سی پوزیشن پر ہے۔ یہاں جرائم تو ہوتے ہیں لیکن اتنے زیادہ بھی نہیں کہ اس علاقے کو خطرناک قرار دلوا دیں اور نہ اتنے کم کہ بے خوف و خطر رہا جا سکے۔ البتہ اغوا اور بھتے جیسے گھناؤنے جرائم کی شرح خاصی کم ہے۔

  • شاہ فیصل ٹاؤن

    ×

    یہاں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں باقی شہر کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں رہنے والے اٹھارہ فیصد گھرانوں کے افراد نے بتایا کہ ان کے موٹر سائیکل چھینے جا چکے ہیں۔ یہ شرح باقی شہر کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ شاہ فیصل ٹاؤن میں رہنے والوں کو اغوا کے واقعات کا بھی سب سے زیادہ سامنا رہا ہے۔

  • کورنگی

    ×

    شہر کا صنعتی مرکز ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں جرائم کی شرح باقی شہر کی نسبت کچھ کم ہے۔ مثال کے طور پر باقی شہر کے مقابلے میں یہاں مردوں سے راہ چلتے بٹوے چھیننے کی وارداتیں سب سے کم رپورٹ ہوئیں۔ باقی اسٹریٹ کرائمز بھی اس علاقے میں باقی شہر کی نسبت کم ہی ہوتے ہیں۔

  • لانڈھی

    ×

    کراچی کے کرائم کے نقشے پر لانڈھی بہت زیادہ نمایاں ہے۔ یہاں شہر کی اوسط کے حساب سے ہی جرائم ہوتے ہیں، نہ زیادہ نہ کم۔ آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ ان بڑے ٹاؤنز میں شامل ہے جن کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس ٹاؤن میں بڑی تعداد میں چھوٹی بڑی صنعتیں کام کر رہی ہیں جن کی اپنی رہائشی کالونیاں بھی ہیں اور ان میں کام کرنے والے ٹاؤن کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ لانڈھی ٹاؤن میں داؤد چورنگی جیسے گنجان آبادی والے علاقے شامل ہیں۔

  • ملیر

    ×

    چھ لاکھ آبادی کے اس ٹاؤن میں اسٹریٹ کرائمز کی اوسط اتنی ہی ہے جتنی کہ باقی شہر میں۔ یہاں گاڑیاں چھیننے اور راہزنی کی وارداتیں تسلسل کے ساتھ شہر کی اوسط کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔

  • بن قاسم

    ×

    پانچ لاکھ کے قریب آبادی والا یہ ٹاؤن پانچ سو مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس میں سمندر کنارے بسنے والے مچھیروں کی بستیاں بھی ہیں۔ یہاں سٹریٹ کرائم کی چھوٹی موٹی وارداتیں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن اغوا، کار چھیننا اور بھتہ خوری جیسے گھناؤنے جرائم کی اوسط بہت کم ہے۔

اسی بارے میں