’نئی کراچی پر کسی ایک گروہ کی چھاپ نہیں‘

Image caption ’علاقے میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایسے انتظامات کیے ہیں جن سے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے‘

علاقے کا نام تو نیو کراچی ٹاؤن ہے، لیکن لگتا وہی پرانا کراچی ہے۔

شہر کے شمال میں واقع اس رہائشی کالونی میں متوسط طبقے اور زیادہ تر اردو بولنے والے افراد رہتے ہیں۔

لیاری ندی اور منگھو پیر کی پہاڑیوں کے درمیان واقع اس علاقے کی آبادی کراچی میونسپل کاپوریشن کے اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

چھوٹے گھروں اور تنگ گلیوں والا نیو کراچی اس منصوبے کا حصہ تھا جسے سابق صدر ایوب خان کے دور میں ایک یونانی تعمیراتی کمپنی نے تیار کیا تھا۔ اس کا مقصد شہر کے صنعتی علاقوں کے قریب مہاجر آبادی کو مرکزی شہر سے دور رہائش فراہم کرنا تھا۔

بی بی سی اور گیلپ پاکستان کے ایک سروے کے مطابق یہاں کے صرف 28 فیصد گھرانوں کے ساتھ فون، بٹوے چھین لیےگئے یا اس جیسے چھوٹی نوعت کے جرائم پیش آئے ہیں اور یہ شرح کراچی شہر کے دیگر 18 ٹاؤنز سے بہت کم ہے۔

نیو کراچی ٹاؤن کے تاجروں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ یہاں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کم ہوتی ہے۔ محمد عارف نے بتایا کہ اسی وجہ سے لیاری کے دکانداروں نے اپنا کاروبار یہاں منتقل کیا ہے۔

Image caption ’ہم اسلحہ نہیں رکھ سکتے، ہمیں حکومت کو ٹیکس دینا ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کرتی۔‘

محمد عارف کے مطابق اس علاقے کے نسبتاً پرامن ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر کسی ایک لسانی، سیاسی یا علاقائی گروہ کی چھاپ نہیں ہے۔

’یہاں مکس آبادی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگوں میں اتفاق اور اتحاد بھی پایا جاتا ہے۔ پر امن علاقہ ہونے کی وجہ سے دوسرے علاقوں سے دوکاندار بھی اب یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی ایسے انتظامات کیے ہیں جن سے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

’ہم نے چندہ جمع کر کے یہاں بازار اور اردگرد کے علاقے میں سرچ لائٹیں لگوائی ہیں۔ اس سے ہمارا بھی فائدہ ہے اور عام لوگوں کا بھی بھلا ہو جاتا ہے۔‘

محمد عارف نے کہا کہ اس کے باوجود مفاد پرست عناصر یہاں بھی اکا دکا وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

’لوگوں کی نظر کراچی پر ہے کیونکہ یہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔ یہ وارداتیں یہاں کے لوگ نہیں کرتے۔ کراچی والے کماتے ہیں اور کراچی کی کمائی پر ہر کسی کی نظر ہے۔‘

شاید کراچی کی بدقسمتی ہے کہ ایسے علاقے کو نسبتاً پرامن سمجھا جاتا ہے جہاں بڑی وارداتیں کم پیش آتی ہیں۔

دن کے وقت، کراچی کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی گاڑیوں اور لوگوں کی بھیڑ اور رونق رہتی ہے لیکن جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، رونقیں بھی بجھنے لگتی ہیں اور اندھیرے کے ساتھ ساتھ یہاں خوف بھی طاری ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

Image caption نیو کراچی ٹاؤن کے تاجروں نے بتایا کہ یہاں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کم ہوتی ہے

دکاندار اسد شاہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کے کچھ روز پہلے ہی وہ رات کے وقت اپنی دکان بند کر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکوں نے انہیں پستول دکھا کر ان سے پیسے چھین لیے۔

اسد شاہ نے غصے سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دیکھیں، یہاں تو سٹریٹ لائٹس بھی کام نہیں کرتیں۔ ہم دکانداروں نے خود ہی چندہ جمع کر کے اپنی دکانوں پر لائٹیں لگائی ہیں۔‘

سکیورٹی بھی اپنی مدد آپ ہی ہے۔ لائٹیں خود لگائیں، چور بھی خود پکڑیں۔گذشتہ سال اس علاقے کے رہائشیوں نے دو چوروں کو پکڑ کر مار پیٹ کی اور پولیس کے حوالے کیا۔

لیکن نیو کراچی کے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ اب شاید ایسی ہمت نہ ہو۔ ’عوام اور دکاندار تو ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ہم اسلحہ نہیں رکھ سکتے، ہمیں حکومت کو ٹیکس دینا ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کرتی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کی صرف چھ سے آٹھ گاڑیاں گشت کرتی ہیں۔’پولیس کیا کرے۔ یہاں کی آبادی بہت بڑی ہے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے کم سے کم بیس سے پچیس گاڑیاں تو چاہیں۔‘

اسی بارے میں