کراچی میں تو جرم دن دہاڑے پھلتا پھولتا ہے

Image caption پولیس چوکی یا رینجرز کی پکٹ دکھائی دینے سے یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے اردگرد کا کم از کم ایک ہزار گز کرائم فری ہوگا۔

کراچی کے کن علاقوں میں کون سا جرم زیادہ یا کم ہے، مجھے بطور کراچی والا یہ جاننے اور سمجھنے کے لیے کسی سروے یا تحقیق کی ضرورت ہی نہیں۔

نہ ہی کسی غیر کراچوی کو یہ سمجھانے کی ضرورت کہ کون سا علاقہ محفوظ ہے یا غیر محفوظ۔

نیویارک میں تو ہر کوئی جانتا ہے کہ بروکلین اور برونکس وغیرہ جیسے محلوں میں اندھیرے کے بعد جانا ٹھیک نہیں۔

لندن والے کو معلوم ہے کہ ایسٹ اور ساؤتھ لندن کے کون سے علاقے کتنے خطرناک یا بےضرر ہیں مگر کراچی کی بات وکھری ہے۔

یہاں کوئی برونکس، بروکلین، ایسٹ اور ساؤتھ لندن نہیں ہر جگہ کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہے کہ جانے کون کہاں لوٹ کر نکل جائے۔

طبقاتی مساوات تو جانے کب قائم ہوگی، جرائمی مساوات البتہ کراچی میں عرصہ پہلے آ چکی۔

ہر ٹریفک سگنل خطرناک ہے۔ لوگ اب ٹریفک جام سے پریشان نہیں ہوتے، خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

کوئی پولیس چوکی یا رینجرز کی پکٹ دکھائی دینے سے یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے اردگرد کا کم از کم ایک ہزار گز کرائم فری ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طبقاتی مساوات تو جانے کب قائم ہوگی، جرائمی مساوات البتہ کراچی میں عرصہ پہلے آ چکی۔

میں جو خود کو بہت طرم خان سمجھتا ہوں، تین موبائل فون چھنوا چکا ہوں، بٹوے میں صرف ہزار، پانچ سو روپے ہونے کے سبب اناڑی پستول برداروں سے نادر گالیاں کھا چکا ہوں۔

تنگ آ کر پچھلے برس میں نے ساڑھے 1700 روپے والا موبائل فون لے لیا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔

تین پستول بردار لونڈے حقارت سے یہ ’سستا‘ میرے منہ پر مار چکے ہیں۔ چوتھی واردات میں تو ایک نے کنپٹی پر ہی پستول کی نال گھپا دی۔

’ماں کے گھوڑے ۔سیانا مت بن آئی فون نکال ، ورنہ یہیں تیرا نوکیا بنا دوں گا۔‘

روایت ہے کہ جرم اندھیرے میں پھولتا ہے مگر کراچی میں جرم دن دہاڑے پھلتا ہے۔

بیشتر بینک ڈکیتیاں دن میں ہوتی ہیں۔ چھینا جھپٹی، لوٹ مار ہجوم کے درمیان ہوتی ہے کیونکہ سناٹے میں شکار بھاگ بھی سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آج کے کراچی میں اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ پچھلے پانچ سال میں کسی سٹریٹ کرائم کا شکار نہیں ہوا تو اس سے بحث مت کیجیے۔ جھوٹوں پر وقت ضائع کرنے سے فائدہ ؟

کسی وارداتی کو کبھی تنہا مت سمجھیے گا، اکثر تین ہوتے ہیں۔ دو کور کرنے والے اور ایک لوٹنے والا اور لٹنے کے بعد تھانے جانا ایسا ہی ہے جیسا لٹنے سے پہلے۔

محرر آپ کو ہی سمجھانا شروع کر دیتا ہے ’جنابِ والی ہم رپورٹ لکھ تو لیں گے مگر پھر روزانہ آپ کو بندوں کی شناخت کے لیے آنا پڑے گا۔ اس سے تو بہتر ہے آئندہ احتیاط کر لیں۔ یہ آج کل کے لونڈے بہت حرامی ہوگئے ہیں۔ اپنے باپ کے ہاتھ میں بھی موبائل دیکھ لیں تو لوٹ لیتے ہیں۔اب آپ جیسے کہیں۔ رپورٹ لکھ دوں یا پھر دفع کروں۔‘

کوچ یا ویگن میں تو سفر کرنا پانچ سال پہلے ہی ترک کر چکا کیونکہ آخری مرتبہ تین ڈاکو پوری ویگن اغوا کر کے گرو مندر سے 15 کلو میٹر دور کئی ناکوں اور چیک پوسٹوں سے گزارتے ہوئے کورنگی لے گئے تھے اور اترتے اترتے سب مسافروں کو للکار گئے۔

’یہ سامنے پولیس چوکی ہے۔ ہمارا موبائل نمبر زیرو تین سو فور فائیو نائن ٹو فور ڈبل سکس ہے۔ جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لینا۔۔۔‘

میری والدہ پچھلی عید پر جن مساکین میں قربانی کا گوشت بانٹنے سہراب گوٹھ گئیں انھی مساکین نے ان کی بالیاں نوچ لیں۔ میری دونوں بہنیں بھی اپنی اپنی فیملیوں سمیت کلائی میں پہنی سونے کی چوڑیاں دے چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption لٹنے کے بعد تھانے جانا ایسا ہی ہے جیسا لٹنے سے پہلے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ڈاکو بہت مہذب تھے۔ایک نے کہا ’باجی ڈرو مت ۔ آرام سے چوڑیاں اتارو ۔کوئی جلدی نہیں۔‘

لڑکپن میں ہم میں سے کوئی اگر یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے کبھی راہ چلتی لڑکی کو دوسری بار نظر بھر کے نہیں دیکھا تو سب لڑکے اسے فوراً کازبِ اعظم قرار دے دیتے تھے۔

آج کے کراچی میں اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ پچھلے پانچ سال میں کسی سٹریٹ کرائم کا شکار نہیں ہوا تو اس سے بحث مت کیجیے۔

بس زیرِ لب مسکراتے ہوئے اپنی راہ لیجیے۔ جھوٹوں پر وقت ضائع کرنے سے فائدہ؟

اسی بارے میں