پاک بھارت مذاکرات کی باقاعدہ بحالی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور پھر دوبارہ کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے

بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سات ماہ قبل معطل کیے جانے والے سیکریٹری سطح کے مذاکرات تو باضابطہ طور پر ابھی بحال نہیں ہوئے ہیں لیکن ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر منگل کو اسلام آباد کے دو روزہ سرکاری دورے پر آ رہے ہیں۔

کیا یہ دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان باضابطہ بات چیت کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے یا یہ جامع مذاکرات کی بحالی ہی ہے؟

دونوں ممالک کے تعلقات پر چھائی مسلسل نااُمیدی کے تناظر میں اس دورے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

پاکستان کہتا رہا ہے کہ چونکہ مذاکرات کے روکنے کا فیصلہ بھارت کا تھا لہذٰا اس کی بحالی کی جانب بھی اسے ہی پہل کرنی چاہیے۔ سفارت کاری کے بعض ماہرین وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو 13 فروری کی ٹیلی فون کال کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے مذاکرات کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم بھارتی حکومت کے مطابق یہ دورہ سارک ممالک کے رابطوں کا سلسلہ ہے۔

سابق سینیئر سفارت کار نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ بھارت کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس دورے میں تمام معاملات پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

’وہ اعتراف نہیں کرنا چاہ رہے کہ یہ مذاکرات کی بحالی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ بات چیت صرف سارک سے متعلق نہیں ہوگی۔‘

پشاور یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے شعبے کے پروفیسر حسین سہروردی کہتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے تعلقات کی اونچ نیچ کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے دورے کافی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ’عوام کو یہ تاثر ملنے لگتا ہے کہ تعلقات میں بہتری آئے گی۔ یہ امید ہی بہت باتوں میں فرق لے آتی ہے جیسے کہ تجارت اور کرنسی۔ آنا جانا بڑھ جاتا ہے۔ فوری نتائج نکلیں یا نہ نکلیں فائدہ ضرور ہوتا ہے۔‘

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بدقسمتی رہی ہے کہ رہنماؤں کے فیصلوں سے مذاکرات کئی کئی ماہ اور برسوں کے لیے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ گذشتہ برس اگست میں سیکریٹری سطح کے مذاکرات بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات پر ناراض ہو کر منقطع کر دیے تھے۔

توقعات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے سارک کانفرنس کے دوران ملاقات ہوئی تھی

پاکستان کا کہنا ہے کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اتنا عرصہ مذاکرات کے معطل ہونے سے کس کو فائدہ ہوا ہے تاہم وہ تمام متنازعہ معاملات پر بھارت سے بات کرنا چاہے گا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا اصرار ہے کہ دونوں ممالک میں جب بھی مذاکرات بحال ہوئے ہیں تو ان میں مسئلہ کشمیر، سیاچن، پانی، اعتماد سازی کے اقدامات، تجارت اور عوامی رابطے شامل ہیں۔

تاہم ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی تشویش پر بات کریں گے تو ان کے حل کی جانب بہتر طریقے سے چل سکتے ہیں۔

ممبئی حملوں کی تحقیقات میں سست روی کے بھارتی الزام کے بارے میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بھی بہت سے مطالبات ہیں اور تشویش ہے۔ آپ یہ نہ بھولیں کہ ممبئی حملے سے دو سال قبل سمجھوتہ ایکسپریس کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ہمارے یہاں تو ایک گروپ کے خلاف شک و شبہے کی وجہ سے مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ہمارے وکلاء کو بھارت نے رسائی کب دی؟ ایک ہی عینی شاہد کو پھانسی دیے جانے کے بعد رسائی دی گئی۔ اسی کو آپ سمجھوتہ واقعے سے ملا کر دیکھیں تو پاکستانیوں کو جلا کر مارا گیا۔ اس میں حاضر سروس فوجی افسر بھی تھے۔ اگر وہ تحقیقات مکمل ہوتی ہیں تو آپ دیکھیں بات کہاں تک جائے گی۔ ہمارے لوگوں کی جانیں کیا کم قیمتی ہیں؟‘

کیا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نئی ریاستی حکومت کے قیام اور اسلام آباد مذاکرات کے درمیان کو کوئی تعلق ہے؟

نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ بھارتی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق مودی کے وزیرِاعلی مفتی سعید سے معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرے گا۔ ’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی پر دنیا کو بھی تشویش ہے اور بھارت کو اس کا سامنا کرنا پڑتاہے۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے پس منظر میں بھی ان مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے حالیہ سیالکوٹ سیکٹر کے دورے اور اس بیان سے کیا ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا؟ کیا فوج اس بحالی مذاکرات میں ’آن بورڈ‘ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حالیہ دنوں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوا ہے

پروفسیر حسین سہروردی کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے فوجیں بھی ایک دوسرے کی نبض دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ’وہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ دوسری جانب موڈ کیسا ہے۔ دونوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہو یا نہ ہو لیکن فوج کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔‘

تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں اور یہ سرحد پر تعینات فوجیوں سے ملاقات کا معمول کا دورہ تھا۔ ’یہ کوئی ایسی منفرد بات نہیں ہوئی ہے۔ اگر فوجی قیادت کو کوئی اعتراضات ہوں گے تو وہ سیاسی قیادت کے ساتھ اس پر بات کرے گی۔ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ وزیراعظم کوئی بیان دیں اور دو روز بعد فوج اس کے خلاف پریس کانفرنس کرے۔ فوجی سربراہ کا دورہ (بھارت کے لیے) کوئی پیغام نہیں تھا۔‘

پاکستان میں یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ مودی سرکار کی داخلی مجبوریاں کم شاید ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے ساتھ رابطے بحال کرنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ پروفیسر حسین کہتے ہیں کہ بھارت کی داخلی سیاست میں یہ رجحان سنہ 1947 سے چلا آ رہا ہے۔

’60 کی دہائی تک تو اندرونی وجوہات کی بنا پر الزام کبھی پاکستان تو کبھی چین پر ڈال دیا جاتا تھا۔ اس سے ہوتا ہے یہ کہ اگر آپ کسی دوسرے ملک پر الزام ڈال دیں تو تمام ملک متحد ہوجاتا ہے اس کے خلاف۔ یہ حکمران سیاسی جماعت کے لیے ایک آلے کا کام کرتا ہے۔ یہ منفی رجحان ہے اور کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ چونکہ کشمیر کے انتخابات ہو چکے ہیں تو اب رابطے کیے جا رہے ہیں۔‘

پاکستان تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر مودی حکومت رابطے بحال کرنے پر آمادہ ہوئی ہے تو اس کی وجہ اقتصادی ہے نہ کہ سیاسی۔ مودی حکومت پر اقتصادی ترقی کے لیے بہت دباؤ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کی بظاہر اقتصادی مفادات اور پاکستان کی تعلقات کی بہتری کی ضرورت اس بار کس حد تک حالات میں واقعی بہتری کا سبب بنتے ہیں۔

اسی بارے میں