انسدادِ پولیو قطرے نہ پلانے پر470 والدین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیبر پختونخوا کے 21 اضلاع میں آج سے انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے 450 سے زائد ایسے والدین کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دینے سے انکار کر دیا تھا۔

گرفتاریوں کا یہ سلسلہ گذشتہ انسداد پولیو مہم کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے 21 اضلاع میں پیر سے انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے جس میں 27 لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔

حکام کے مطابق انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی اطلاع پر ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 470 انکاری والدین کو حراست میں لیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں والدین کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ریاض محسود نے تین ایم پی او کے تحت ان والدین کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جو اپنے پانچ سال سے کم کے بچوں کو اس موذی مرض سے بچاؤ کے قطرے نہیں دینا چاہتے تھے۔

یہ کارروائی گذشتہ انسداد پولیو مہم کی بنیاد پر کی جا رہی ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ چند ہفتوں سے جاری ہے اور پیر کی گرفتاریوں کی بعد یہ تعداد اب 470 تک پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مزید ایسے والدین کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں جو اپنے بچوں کو یہ قطرے نہیں دینا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حساس علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

انسداد پولیو انسداد پولیومہم کے رضا کار گھر گھر جا کر بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے دے رہے ہیں لیکن پشاور کے بعض علاقوں میں کچھ والدین ایک عرصے سے انسداد پولیو کے قطرے اپنے بچوں کو دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

پشاور میں ان انکاری والدین کے تعداد 20 سے 25 ہزار تک بتائی گئی تھی لیکن کچھ عرصے سے حکام کا کہنا تھا کہ اب ان کی تعداد 14 ہزار تک ہو چکی ہے اور اس تعداد میں مزید کمی لائی جائے گی ۔

پشاور میں ضلع انتظامیہ نے دو روز کے لیے موٹر سائکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کچھ حساس علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں