’اگر کراچی دھماکہ نہ بھی ہوتا تو تب بھی ہم نہیں بچتے۔۔۔‘

نیوزی لینڈ کے سابق اوپننگ بیٹسمین مارک رچرڈسن کے لیے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو جب کراچی میں بم دھماکے نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹیسٹ میچ ختم کرکے وطن واپس پہنچنے پر مجبورکردیا تھا۔

مارک رچرڈسن آج بھی اس واقعے کو یاد کرکے افسردہ ہوجاتے ہیں۔

یہ بم دھماکہ آٹھ مئی 2002 کو اس ہوٹل کے قریب ہوا تھا جہاں نیوزی لینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں کراچی ٹیسٹ کے لیے ٹھہری ہوئی تھیں اور کراچی ٹیسٹ کے پہلے دن کے کھیل کے لیے اسٹیڈیم جانے کی تیاری کررہی تھیں۔

اس بم دھماکے میں 11 فرانسیسی انجینئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مارک رچرڈسن نے مک لین پارک نیپئر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں اس واقعے کی افسوسناک یادیں محفوظ ہیں۔

’سب کچھ معمول کے مطابق جاری تھا۔ ہم لوگ کھانا کھانے مک ڈونلڈ میں بھی گئے تھے لیکن پھر اس بم دھماکے نے سب کچھ بدل دیا۔ ہمارے لیے یہ دل دہلانے کے مترادف تھا۔ ہماری بس پانچ منٹ میں جانے والی تھی۔ اگر یہ دھماکہ پانچ منٹ بعد ہوتا تو ہم بھی اس کی براہ راست زد میں آسکتے تھے۔‘

’جب یہ دھماکہ ہوا تو میں اپنے کمرے میں تھا اور نیچے جانے کی تیاری کررہا تھا کہ شیشے کا دروازہ نیچے آگرا۔ خوش قسمتی سے میں محفوظ رہا۔‘

مارک رچرڈسن کے ذہن میں پاکستان سے متعلق خوشگوار یادیں بھی ہیں جنہیں وہ نہیں بھولے ہیں۔ ’پاکستان کی سیدھی وکٹیں جو بیٹنگ کے لیے سازگار ہوتی ہیں اور وہاں کے مزیدار کھانے۔‘

رچرڈسن ازراہ تفنن کہتے ہیں کہ اگر کراچی ٹیسٹ ہو جاتا تب بھی ان کی ٹیم نہ بچتی لیکن کسی اور سے نہیں شعیب اختر سے۔

’شعیب اختر اس سیریز میں طوفانی رفتار سے بولنگ کررہے تھے اور ہم تمام بیٹسمین پیڈ،گلوز اور ہیلمٹ سے اپنے جسم کو بچانے میں لگے ہوئے تھے۔ اس کے برعکس انضمام الحق اور محمد یوسف کو ہمارے بولرز کے خلاف کوئی پریشانی نہیں تھی اور وہ بڑے اطمینان سے بیٹنگ کررہے تھے۔‘

مارک رچرڈسن کو اس بات کا سخت افسوس ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہورہی ہے۔

’یہ صرف کھیل کا معاملہ نہیں ہے کہ اس سے متعلق لوگ اثرانداز ہوسکیں۔ جو لوگ سیاسی ماحول کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انہیں ڈپلومیسی کا بھی پتہ ہے وہ اس معاملے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں