فاٹا میں سینیٹ الیکشن کے طریقۂ کار پر سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فاٹا سے خالی ہونے والی سینیٹ کے چار نشستوں پر درجنوں امیدواروں کے مابین مقابلہ ہے

وفاقی حکومت کی طرف سے راتوں رات فاٹا میں سینٹ انتخابات کے حوالے سے صدراتی آرڈننس جاری کرکے فاٹا کے ایم این اے کے چار ووٹ ڈالنے کے حق کو ختم کرکے پرانے طریقۂ کار کے تحت الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ایوان بالا کے چناؤ پر کئی قسم کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے مختصر اعلامیے کے مطابق فاٹا میں 2002 کے حکم نامے کو واپس لے لیا گیا ہے جس کے بعد اب فاٹا کے اراکینِ سینیٹ کا انتخاب پرانے طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔

نئے طریقہ کار کے مطابق قبائلی علاقوں سے منتخب اراکین قومی اسمبلی کو اب ہر رکن کے انتخاب کےلیے چار کی بجائے صرف ایک ووٹ ڈالنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

فاٹا سے خالی ہونے والی سینیٹ کے چار نشستوں پر درجنوں امیدواروں کے مابین مقابلہ ہے۔ ان امیدواروں کو قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے 11 اراکین قومی اسمبلی نے منتخب کرانا ہے۔ تاہم یہ 11 ایم این اے دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں جس میں ایک آزاد پارلیمنٹ کا گروپ کہلاتا ہے جو چھ اراکین پر مشتمل ہے جبکہ دوسرے گروپ میں پانچ ممبران شامل ہیں جن میں تین کا تعلق مسلم لیگ نواز اور ایک ایک کا تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) سے ہے۔

کرم ایجنسی سے سابق رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا کہنا ہے کہ فاٹا میں پہلے سینیٹ کے انتخاب میں ہر رکن ایک ایک سینیٹر کو ووٹ ڈال کر منتخب کیا کرتا تھا تاہم 2002 میں پرویز مشرف کے دور یہ طریقہ تبدیل کردیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں یہ فیصلہ ہوا کہ ایوان بالا کی جتنی نشستیں خالی ہوں گی اسی حساب سے ہر ممبر اتنے ووٹ بھی ڈالیں گے، یعنی اگر دو نشستیں خالی ہیں تو ہر رکن دو دو ووٹ دیں گے، اگر چار نشستیں خالی ہیں تو ہر ممبر چار چار ووٹ ڈالیں گے۔

منیر اورکزئی کے مطابق اس طریقۂ کار کے تحت جس کے پاس زیادہ اکثریت ہوتی ہے ان کے اسی حساب سے زیادہ سینیٹرز بھی منتخب ہوتے ہیں۔

’چونکہ حالیہ الیکشن میں چھ آزاد اراکین نے اپنا گروپ بنایا ہوا تھا لہذا امکان یہی تھا کہ تمام چار سینیٹرز بھی ان کے ہی آنے تھے جبکہ دیگر پانچ ممبران کے ہاتھ کچھ نہیں آنا تھا۔‘

ممتاز قانون دان اور سابق سینیٹر محمد قاضی انور ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے آزاد ممبران قومی اسمبلی کی اجاراداری ختم کرنے کےلیے صدراتی آرڈننس جاری کیا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ چند دنوں سے اخبارات میں یہ خبریں بھی گرم تھیں کہ فاٹا میں سینیٹ الیکشن کے دوران بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے اور 20 سے 30 کروڑ روپے دیکر فی ممبر خریدا گیا ہے جس کی وجہ سے شاید حکومت بھی ایکشن میں آئی ہے۔

تاہم دوسری طرف قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے الزام لگایا ہے کہ حکومتی امیدواروں کی شکست کے باعث راتوں رات صدارتی آرڈننس جاری کیا گیا تاکہ پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

حکومت مخالف اتحاد میں شامل فاٹا سے منتخب ایک رکن قومی اسمبلی نے نام بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند دنوں سے ان پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ آزاد اراکین کی بجائے نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ووٹ دیں تاہم انکار پر یہ اقدام لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آزاد اراکین صدارتی آرڈننس کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے اور اس کے خلاف قبائلی علاقوں میں احتجاج بھی کیا جائے گا۔

ادھر بعض سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے راتوں رات صدارتی آرڈننس جاری کرنے پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے رات کی تاریکی میں اتنا اہم فیصلہ کرکے سینیٹ الیکشن کو متازع بنانے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد سے حکومت پر مسلسل یہ دباؤ بڑھتا جارہا تھا کہ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنےکےلیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ انتخابات میں پیسوں کے استعمال کو روکنے کےلیے خفیہ بیلٹ سے نہیں بلکہ شو آف ہینڈ کے ذریعے سے چناؤ کیا جائے اور اس بابت بعض جماعتوں نے حکومت کی حمایت کرنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم بعد میں اس تجویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ آزاد اراکین پارلمینٹ نے جن امیدواروں کو سینیٹ میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا ان میں بیشتر وہ قبائلی رہنما ہیں جو 2013 کے عام انتخابات میں ان ممبران کی مالی معاونت کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں