’مذاکرات کامیاب ہوں گے جب حقانی اور کوئٹہ شوریٰ بھی شامل ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان مصالحت کی کوشش میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے

بی بی سی اردو کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کی ایک نئی کوشش میں مصروف ہے۔

اپنی نوعیت کے یہ پہلے مذاکرات رواں ماہ کسی وقت متوقع ہیں اور ان کے لیے چار مقامات پر غور ہو رہا ہے جس میں اسلام آباد اور کابل کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان مصالحت کی کوشش میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوں گے جب تمام طالبان دھڑے یعنی حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ اس میں شامل ہوں۔

’کسی ایک کو باہر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان اس ساری کوشش میں جس کا مقصد امن ہے اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس میں ہمارا اگر کہیں اثر ہے تو ہم اسے مثبت طریقے سے ضرور استعمال کریں گے۔‘

اس سوال پر کہ کب تک بات چیت شروع ہوسکتی ہے، انھوں نے اس بات کی تصدیق کی رابطوں کا سلسلہ چل نکلا ہے تاہم ’یہ ایک نازک معاملہ ہے تو میں اس میں قیاس آرائی کرنے سے احتیاط کروں گا۔ کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ سب مذاکراتی میز پر آئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حکومتِ افغانستان اور پاکستان تو اس کے لیے آمادہ ہیں لیکن طالبان کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں

طالبان کے متضاد بیانات

حکومتِ افغانستان اور پاکستان تو اس کے لیے آمادہ ہیں لیکن طالبان کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

وہ کسی ایسی بات چیت سے انکار آخر کیوں کر رہے ہیں؟ بی بی سی پشتو کے نامہ نگار طاہر خان کہتے ہیں کہ طالبان کو ابھی اپنے رینکس میں لوگوں کو اعتماد میں لینا ہے۔ انہیں اس بابت شدید مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان مذاکرات میں چین بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاک افغان حکام کا ماننا ہے کہ طالبان نے بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ وہ اب کابل میں حکومت گرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ کامیاب افغان صدارتی انتخابات اور کسی بڑے علاقے کے غیرملکی فوجی انخلا کے باوجود طالبان کے ہاتھ نہ جانا اس کو اس کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حقانی نیٹ ورک پر پابندی کے حکومت پاکستان کے اعلان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی اس گروپ کو تسلیم نہیں کیا تو پابندی کی بات نہیں بنتی۔ ’ہم تو اس گروپ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں