الیکشن کمیشن نے فاٹا کی نشستوں پر انتخاب غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاٹا کی چار نشستوں کے لیے 36 اراکین میدان میں ہیں

سینیٹ کے انتخابات کے لیے تعینات پریزائیڈنگ افسر کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات میں فاٹا کی چار نشستوں پر انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

صدارتی آرڈیننس میں ابہام کی وجہ سے پریزائیڈنگ افسر نے الیکشن کمیشن سے انتخابی عمل ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس درخواست پر فیصلے کے لیے کمیشن کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جمعرات کو سینیٹ کے انتخاب میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 11 ارکانِ قومی اسمبلی نے چار سینیٹرز کا انتخاب کرنا تھا اور اس کے لیے 36 امیدوار میدان میں تھے۔

اس الیکشن کے التوا کی درخواست کی وجہ جمعرات کی شب صدر ممنون حسین کی جانب سے فاٹا کے ارکان کی ووٹنگ کے حوالے سے آرڈیننس کے اجرا کو قرار دیا گیا ہے۔

فاٹا کے پریزائیڈنگ افسر نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے کہا تھا کہ صدارتی آرڈیننس میں ابہام پایا جاتا ہے اس لیے فاٹا کی نشستوں کے لیے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔

نئے صدارتی حکم نامے میں قومی اسمبلی میں فاٹا کے اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنی پسند کے صرف ایک سینیٹر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

اس شرط کا اطلاق وفاق اور چاروں صوبوں کے امیدواروں کے چناؤ کے لیے نہیں ہوتا جہاں اراکین کے پاس یہ آپشن ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے چار ناموں کا انتخاب کریں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق فاٹا اراکین نے اس صدارتی آرڈیننس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم بڑے دل کا مظاہرہ کرتے تو پی پی پی کو پنجاب کی نشست پر بلامقابلہ کامیابی مل سکتی تھی

قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اور سینیٹ میں سب سے زیادہ نشستوں کی حامل جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے صدر کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد فاٹا کے اراکین کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

’وزیراعظم ووٹ دینے نہیں آرہا وہ بیرونِ ملک ہے، ان کی موجودگی ہونا افسوس ناک ہے، آج رات کو آرڈیننس نکالا فاٹا کے لیے یہ بھی افسوس ناک ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں آرڈینیس اس لیے جاری کیا تاکہ ان کے ووٹ نہ کم ہوجائیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ یہ طریقہ کار 2002 سے چلا آرہا ہے حکومت اس میں چند ماہ پہلے بھی تبدیلی کر سکتی تھی۔

’میں یقین سے کہتا ہوں کہ جو چار ووٹ سینیٹ سےحکومت کو ملنے تھے اب وہ بھی نہیں ملیں گے، فاٹا والے کہیں گے کہ جب آپ ہم سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتے ہیں ہمیں سجھتے ہی کچھ نہیں ہمارے لیے نئے نئے آرڈیننس نکالتے ہیں تو ہم کیوں آپ پہ اعتماد کریں ۔‘

خورشید شاہ نے بتایا کہ پنجاب میں وزیراعظم اگر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے تو پیپلز پارٹی بلا مقابلہ نشست جیت سکتی تھی جس کے لیے اسے پی ٹی آئی کی حمایت بھی حاصل تھی۔

اسی بارے میں