حکمران جماعت نے میدان مار لیا، پی پی پی کا دوسرا نمبر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دستور کے مطابق ہر تین سال بعد سینٹ کے اراکین کی نصف تعداد ریٹائرڈ ہوتی ہے

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں 18 پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین آٹھ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے جمعرات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی تھی اور جہاں اسلام آباد، صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں یہ عمل مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوا تھا وہیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد پولنگ کی گئی گھنٹے تک معطل رہی تھی۔

اس تاخیر وجہ سے صوبے سے سینیٹ کے الیکشن کے غیر حتمی نتائج جمعرات کو رات گئے ہی سامنے آ سکے۔

حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی 18 اور پیپلز پارٹی کی آٹھ سیٹوں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ کی چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے چار امیدوار کامیاب رہے۔

اس کے علاوہ نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے حصے میں تین، تین اور جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے حصے میں دو سیٹیں آئی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، کیو جے آئی اور جماعت اسلامی ایک ایک سینیٹر بنوانے میں کامیاب رہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی سے ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا۔

آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستوں پر انتخاب ملتوی کر دیا گیا اور وہاں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

فاٹا کے لیے پریزائیڈنگ افسر نے الیکشن کمیشن اور صدارتی آرڈیننس کے ووٹنگ کے طریقہ کار میں تضاد کی وجہ سے فاٹا کی نشستوں پر الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ نے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پنجاب سے مسلم لیگ ن کے 11 اور وفاقی دارالحکومت سے دو سینیٹرز اقبال ظفر جھگڑا اور راحیلہ مگسی کامیاب ہوئے ہیں۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سات اور ایم کیو ایم کے چار امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ خیبر پختو نخوا میں تحریکِ انصاف چھ سینیٹرز کے ساتھ سب سے بڑی جماعت رہی جبکہ بلوچستان میں حکمران اتحاد 12 میں سے نو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

پنجاب

پنجاب سے یہ الیکشن جیتنے والوں میں مسلم لیگ نواز کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، غوث نیازی، سلیم ضیاء، چوہدری تنویر، مشاہد اللہ خان اور نہال ہاشمی جنرل نشستوں پر منتخب ہوئے ہیں۔

ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حکمران جماعت کے ہی راجہ ظفرالحق اور پروفیسر ساجد میر فاتح رہے۔

خواتین کی دو نشستیں پر بھی مسلم لیگ ن کی ہی نجمہ حمید اور عائشہ رضا فاروق کے حصے میں آئیں۔

سندھ

غیر حتمی نتائج کے مطابق سندھ سے سات جنرل نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ امیدوار رحمان ملک، اسلام الدین شیخ، سلیم مانڈوی والا، لطیف انصاری اورگیان چند کامیاب ہوئے جبکہ ایم کیوایم کے دو امیدواروں خوش بخت شجاعت اور میاں عتیق سینیٹ کے رکن بن گئے۔

سینٹ میں سندھ کی سات جنرل نشستوں پر آٹھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا اور مسلم لیگ فنکشنل کے امام الدین شوقین صرف 13 ووٹ حاصل کر سکے۔

ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کے فاروق نائیک اور ایم کیو ایم کے بیرسٹر محمد علی سیف جبکہ خواتین کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی سسی پلیجو اور ایم کیو ایم کی نگہت مرزا پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیبر پختونخوا اسمبلی میں دھاندلی کے الزامات کے بعد پولنگ کئی گھنٹے تک معطل رہی

خیبر پختونخوا

ملک کے شمال مغربی صوبے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حصے میں تین جنرل نشستیں آئیں اور اس کے نومنتخب سینیٹرز میں شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ جنرل نشست پر جماعت اسلامی کے سراج الحق، جے یو آئی ف کے مولانا عطاالرحمان، مسلم لیگ نواز کے صلاح الدین ترمذی اور پیپلزپارٹی کے خانزادہ خان کامیاب ہوئے ہیں۔

خواتین کی نشستوں پر تحریک انصاف کی ثمینہ عابد اور اے این پی کی ستارہ ایاز کامیاب رہیں ۔

ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص دو نشستوں میں سے ایک پر تحریک انصاف کے نعمان وزیر جیتے جبکہ دوسری نشست مسلم لیگ ن کے بیرسٹر جاوید عباسی نے حاصل کی ہے

اقلیتوں کی ایک نشست پر تحریک انصاف کے جان کینتھ ولیمز کامیاب ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں دھاندلی کے الزامات کے بعد پولنگ کئی گھنٹے تک معطل رہی تھی اور رات گئے ہی وہاں ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو سکا تھا۔

ان انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے تحریکِ انصاف سمیت کچھ جماعتوں نے خفیہ رائے شماری کی جگہ کھلے عام ووٹنگ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس سلسلے میں حکومت نے رائے شماری کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا ارادہ بھی کیا تاہم پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے مبینہ مخالفت کے بعد ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں حکمران اتحاد 12 میں سے نو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

بلوچستان

بلوچستان سے سینیٹ الیکشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ نواز، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے تین تین جنرل نشستیں حاصل کی ہیں۔

اس کے علاوہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری اور بی این پی کے امیدوار ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی بھی جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔

ایک جنرل نشست پر آزاد امیدوار میر یوسف بادینی سینیٹر منتخب ہوئے اور مسلم لیگ ن کے رہنما سردار یعقوب خان ناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

خواتین کی نشستوں پر مسلم لیگ ن کی امیدوار کلثوم پروین اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی گل بشریٰ نے کامیابی حاصل کی جب کہ اقلیتی نشست نیشنل پارٹی کے اشوک کمار کے حصے میں آئی۔

ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر بھی نیشنل پارٹی کے کبیر محمد اور مسلم لیگ نواز کے آغا شہباز درانی کامیاب ہوئے۔

اسی بارے میں