الیکشن میں مسلم لیگ آگے، ایوان میں پی پی پی بڑی جماعت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق الیکشن میں حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب تو ہوئی ہے لیکن وہ ایوانِ بالا میں سب سے بڑی جماعت بننے میں ناکام رہی ہے۔

ان نتائج کے مطابق ایوانِ بالا میں اب مسلم لیگ نواز کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی ہے تاہم پیپلز پارٹی اب بھی 27 نشستوں کے ساتھ ایوان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔

سینیٹ الیکشن: کون کہاں سے جیتا؟

مسلم لیگ نواز نے جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں 52 میں سے 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین آٹھ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے جمعرات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی تھی اور جہاں اسلام آباد، صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں یہ عمل مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوا تھا وہیں خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد پولنگ کی گئی گھنٹے تک معطل رہی تھی۔

اس تاخیر وجہ سے صوبے سے سینیٹ کے الیکشن کے غیر حتمی نتائج جمعرات کو رات گئے ہی سامنے آ سکے۔

حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی 18 اور پیپلز پارٹی کی آٹھ سیٹوں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ کی چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے چار امیدوار کامیاب رہے۔

اس کے علاوہ نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے حصے میں تین، تین اور جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے حصے میں دو سیٹیں آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پہلی بار سینیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے

عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور جماعت اسلامی ایک ایک سینیٹر بنوانے میں کامیاب رہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی سے ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا۔

ایوان میں پارٹی پوزیشن

ان نتائج کے مطابق اب 11 مارچ کو نئے سینیٹرز کی حلف برداری کے بعد ایوان میں پیپلز پارٹی کے پاس 27 اور مسلم لیگ نواز کے پاس 26 ارکان ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے پاس سینیٹ میں آٹھ، عوامی نیشنل پارٹی کے پاس سات اور تحریکِ انصاف کے پاس کُل چھ نشستیں ہیں جبکہ چھ آزاد ارکان بھی سینیٹ میں موجود ہوں گے۔

ایوان میں جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے پانچ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چار، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے تین، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے دو اور مسلم لیگ فنکشنل، جماعتِ اسلامی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ایک ایک رکن بھی موجود ہوگا۔

پاکستان کے سینیٹ میں کل 104 نشستیں ہیں جن میں سے نصف ارکان ہر تین سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔

جمعرات کو 52 ارکان کا انتخاب ہونا تھا تاہم آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے فاٹا سے سینیٹ کی چار نشستوں پر انتخاب ملتوی کر دیا گیا اور وہاں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

فاٹا کے لیے پریزائیڈنگ افسر نے الیکشن کمیشن اور صدارتی آرڈیننس کے ووٹنگ کے طریقہ کار میں تضاد کی وجہ سے فاٹا کی نشستوں پر الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

جماعت کا نام سینیٹرز کی تعداد
پیپلز پارٹی 27
مسلم لیگ ن 26
متحدہ قومی موومنٹ 8
عوامی نیشنل پارٹی 7
پاکستان تحریکِ انصاف 6
جمعیت علمائے اسلام (ف) 5
پاکستان مسلم لیگ(ق) 4
نیشنل پارٹی 3
پختونخوا ملی عوامی پارٹی 3
بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) 2
مسلم لیگ فنکشنل 1
جماعتِ اسلامی 1
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) 1
آزاد 6
کل ارکان 100

اسی بارے میں