خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے لیے مزید اقدامات

Image caption ہر زون کا سربراہ ضلعی پولیس سربراہ یا ایس ایس پی رینک کا افسر ہوگا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی، اغواء برائے تاؤان اور بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کےلیے محکمۂ انسداد دہشت گردی یعنی سی ٹی ڈی کے مزید تین زونز فوری طور پر قائم کر دیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کے تین ذونز کا قیام آئی جی پولیس کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کو تین زونز ون، ٹو اور تھری میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ زون ون کو ناردرن زون کا نام دیاگیا ہے جس میں ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاقے شامل ہیں جبکہ زون ٹو اور تھری کو سنٹرل اور سدرن ریجنز کے ناموں سے منسوب کیا گیا ہے جس میں پشاور، مردان، کوہاٹ اور بنوں ڈویژن کے اضلاع شامل ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر زون کا سربراہ ضلعی پولیس سربراہ یا ایس ایس پی رینک کا افسر ہوگا۔

بیان کے مطابق ناصر خان درانی نے اکتوبر 2013 میں صوبے کے پولیس سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ’سی ٹی ڈی‘ کا قیام عمل میں لایا جس کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لانے تھی۔

اس سے پہلے یہ ادارہ سی آئی ڈی کے نام سے منصوب تھا لیکن بعد میں اس کا نام ڈی سی ٹی رکھا گیا جس کا کام صرف خفیہ معلومات کو اضلاع اور دیگر پولیس کے یونٹس کو فراہم کرنا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے مختلف یونٹوں کے درمیان خفیہ معلومات کو بروقت پہنچانے کے حوالے سے اکثر اوقات اختلافات پیدا ہوتے تھے جس سے اس شعبے کی کارکردگی متاثر ہو رہی تھی لہٰذا آئی جی پولیس نے اس کو مکمل ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ نئے مینڈیٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کا کام نہ صرف خفیہ معلومات اکھٹا کرنا اور آپریشن کرنا ہے بلکہ یہ ادارہ تفتیش کا کام بھی کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption سی ٹی ڈی نے شدت پسندوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں

پولیس کے مطابق خفیہ معلومات حاصل کرنے کےعمل کو مزید فعال بنانے کےلیے کئی چھوٹے چھوٹے تحقیقاتی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق نئے مینڈیٹ کے تحت سی ٹی ڈی کا کام دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور اغواء کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

آئی جی کے دفتر کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سی ٹی ڈی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں جس میں سو کے قریب اہم دہشت گرد کمانڈرز، بھتہ خور اور متعدد ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے میں کالعدم تنظیموں کے بعض ایسے کمانڈرز بھی شامل ہیں جو پولیس پر متعدد ریموٹ کنٹرول بم حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد سے صوبے بھر میں فوج اور پولیس کی طرف سے کارروائیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں بیشتر کارروائیاں موثر رہی ہیں اور اس دوران کئی شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں