حفاظتی ٹیکوں کی یادہانی کے لیے کلائی بینڈ

Image caption ڈاکٹر نور کہتی ہیں کہ والدین کا کہنا ہے کہ کہ اس بینڈ نے انھیں حفاظتی ٹیکے لگوانے کا پابند بنا دیا ہے

پاکستان بھر میں ہزاروں بچے ایسے ہیں جو پیدائش کے بعد نمونیہ، خسرہ اور پولیو جیسی مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق اگر 10 فیصد سے زیادہ بچوں کو پیدائش کے بعد حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے جاتے تو یہ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے قومی منصوبوں کی ناکامی ہے۔

ڈاکٹر نور صباح امریکہ کی جان ہاپکنز یونورسٹی سے صحتِ عامہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کر رہی تھیں۔ وہ پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہ ہونے کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ صحتِ عامہ کے حوالے سے ایک ایسا منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں جو سستا اور آسان ہو۔

ڈاکٹر نور صباح کہتی ہیں کہ ’جو والدین جھگیوں میں رہتے ہیں۔ وہ ویکسینیشن کارڈ سنبھال نہیں سکتے ہیں۔ طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے۔ جو والدین کے لیے آسان ہو۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک خاتون کو کلائی پر بینڈ پہنا رہی ہوں اور انھیں اُس کے بارے میں سمجھا رہی ہوں۔‘

ڈاکٹر نور کا یہ بینڈ بچوں کے لیے محفوظ پلاسٹک سے بنایا گیا ہے۔ جس میں مختلف رنگوں سے والدین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون سا حفاظتی ٹیکہ کس وقت لگایا جائے۔یہ بینڈ پیدائش کے وقت بچوں کو پہنایا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ اِس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر نور نے بتایا کہ اب تک والدین کو موبائل فون پر پیغام کے ذریعے یاد دہانی کروائی جاتی رہی ہے لیکن یہ طریقہ اتنا مؤثر نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’موبائل فون کے ذریعے والدین کو یاد دلایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں غریب والدین کے پاس یا تو موبائل فون نہیں ہوتا یا وہ نمبر بدلتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون سے یاد دہانی کروانا مہنگا بھی پڑھتا ہے۔‘

Image caption یہ بینڈ محفوظ پلاسٹک سے بنایا گیا ہے۔مختلف رنگوں سے والدین کو یہ پتہ چلتا ہے حفاظتی ٹیکوں کا وقت ہے

ڈاکٹر نور صباح نے بتایا کہ بینڈ کا خیال آتے ہی انھوں نے جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور دنیا میں سب سے زیادہ حفاظتی ٹیکوں کے لیے رقم فراہم کرنے والے غیر سرکاری ادارے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے فنڈنگ حاصل کی۔ انھوں نے بتایا کہ اس بینڈ کی تخلیق اور تیاری میں ایک سال لگا ہے۔

کراچی کے تین علاقوں میں نوزائیدہ بچوں میں حفاظتی ٹیکے کے شیڈول کی یاد دہانی کے لیے اس بینڈ کا استعمال شروع ہوا ہے۔ ان علاقوں میں ایک علاقہ سچل گوٹھ بھی ہے۔ جہاں کی بنیادی صحت کے مرکز بی ایچ یو میں میری ملاقات یاسمین سے ہوئی جو چارہ ماہ کی بچی کی ماں ہیں۔

یاسمین کی بیٹی نے ہاتھ میں بینڈ پہن رکھا تھا۔یاسمین نے بتایا کہ وہ 20 منٹ تک پیدل چل کر اس صحت کے مرکز پہنچتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ بینڈ حفاظتی ٹیکوں کی یاد دہانی کا ایک موثر طریقہ ہے۔

ڈاکٹر نور کہتی ہیں کہ ایک والدہ نے انھیں بتایا کہ اس بینڈ نے انھیں حفاظتی ٹیکے لگوانے کا پابند بنا دیا ہے۔

پاکستان کے قومی امیونائیزیشن پروگرام کے مطابق گذشتہ برس بلوچستان میں صرف 50 فیصد بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں لگیں ہیں جبکہ سندھ میں بھی 30 فیصد سے زائد بچے پولیو کی ویکسین اور خسرے سے بچاؤ کے ٹیکوں سے محروم رہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی 50 فیصد بچوں کو خسرے کے ٹیکے نہیں لگ سکے۔گذشتہ سال قبائلی علاقوں میں پولیو ویکسین کے ساتھ نمونیے کے ٹیکے بھی نہیں لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے خلاف ردِ عمل کے باعث دیگر بیماریوں کے بچاؤ کے خاتمے کے حوالے سے مہمات سے توجہ ہٹ گئی۔ قومی ویکسینیشن پروگرام کے نگراں سربراہ ڈاکٹر ثقلین گیلانی نے بتایا کہ اس غلط تاثر کی وجہ سے نو بیماریوں کے پروگرام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

ڈاکٹر نور صباح کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں وہ اس بینڈ کو بہتر بنائی گئیں۔ جیسے بچوں کے ویکسنیشن کارڈ کی معلومات جو اس بینڈ میں شامل کی جائیں گی۔

ڈاکٹر نور کی کوششیں اپنی جگہ، اچھے مستقبل کے لیے حال میں تکلیف تو اٹھانی پڑھتی ہے، لیکن اس اچھے مستقبل کے لیے شاید حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں