جھنگ کا کمپیوٹرائزڈ نظام، جدید پولیسنگ کا آغاز

Image caption جھنگ کے اس کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے صوبہ پنجاب میں جدید پولیسنگ کی بنیاد رکھی گئی ہے

پنجاب کے شہر جھنگ کے وسط میں ایک چھوٹا سا مزار ہے۔ سیڑھیوں کے ایک طرف چند ویسی ہی عارضی سٹال نما دکانیں ہیں جیسی ہر دربار کےباہر دکھائی دیتی ہیں۔ جن پر پھول، موم بتیاں، بتاشے اور قبروں پر ڈالنے والی سبز اور سرخ چادریں سجائے دکاندار خریداروں کے انتظار میں ہیں لیکن گاہکوں کا نام و نشان نہیں۔

مزار کے مرکزی احاطے کے ساتھ صحن ہے جہاں ایک بڑا سا برگد کا درخت ہے۔ اتنا گھنا کہ پورے صحن میں چمکتی دھوپ میں بھی اندھیرا رہتا ہے۔ درخت کے نیچے لوک گلوکاروں کی ایک ٹولی ہیر پڑھنے میں مصروف ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ محبت کی لازوال لوک داستان کے کرداروں ہیررانجھا کی قبر ہے۔

قبر اکثر ویران ہی رہیتی ہے، کیونکہ شہر میں محبت کرنے والوں کے بجائے نفرتیں بانٹنے والوں کا راج ہے۔ جھنگ کی پہچان اب ہیر رانجھا کی محبت نہیں رہی بلکہ اب یہ شہر اس فرقہ وارانہ تقسیم سے جانا جاتا ہے جسے کئی بے گناہوں کے خون سے سینچا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔

اس شہر سے آنے والی زیادہ تر خبریں تو پریشان کن ہی ہوتی ہیں۔ تاہم آج کل جھنگ اس کمپیوٹرائزڈ نظام کی وجہ سے زیربحث ہے، جس کے ذریعے صوبہ پنجاب میں جدید پولیسنگ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

کانسٹیبل ہارون الرشید جھنگ پولیس کے شعبہ آئی ٹی کے انچارج ہیں۔سنہ 2013 میں انھیں ڈی پی او کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ پولیسنگ کو ممکن بنانے کا ٹاسک دیا گیا تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہ ہدف کیسے پورا کر پائیں گے۔ لیکن ڈیڑھ برس کے عرصے میں انھوں نے نہ صرف ایف آئی آر کے اندراج اور اس پر ہونے والی تمام پیش رفت کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا سافٹ ویئر بنایا بلکہ وائرلیس نیٹ ورک سے ضلع کے 14 تھانوں کو منسلک کر کے پولیسنگ کا نیا کلچر متعارف کروا دیا۔

ہارون الرشید کہتے ہیں کہ ’تھانے کا تمام ریکارڈ ہی نامکمل ہوتا تھا لیکن سافٹ وئیر کے باعث اب ہر مقدمے کی تکمیل ہونے لگی ہے۔ اب افسروں کو تمام معلومات تک رسائی ہے وہ ہر لمحے مقدمات میں پیش رفت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ تفتیشی افسر کی کارکردگی بھی مانیٹر ہوتی رہتی ہے۔ سافٹ وئیر میں یہ معلومات بھی موجود ہوتی ہیں کہ کسی تفتیشی افسر کے پاس کون کون سے مقدمات ہیں اور ان پر اُس نے کیا کارروائی کی ہے۔‘

ہارون رشید نے محکمے کی مدد سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے لیے رقم بھی جھنگ پولیس نے اپنے معمول کے بجٹ سے ہی خرچ کی ہے۔ اور آئی جی آفس سے کوئی علیحدہ فنڈنگ نہیں لی گئی۔

Image caption پہلے یہ سارا کام ہاتھ سے کیا جا رہا تھا۔ اس میں بہت وقت ضائع ہوتا تھا۔ اب کمپیوٹر کی ایک کلک سے یہ تمام کام ہو رہا ہے

پہلے پولیس کو کسی بھی پرانے مقدمے سے متعلق معلومات درکار ہوتی تھیں وہ انھیں سینکڑوں صفحات پر مشتمل ایک ایک فائل سے تلاش کرنا پڑتی تھیں۔پرانی فائلوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی کسی درد سر سے کم نہ تھی۔ لیکن اب جھنگ پولیس پرانے ریکارڈ کو بھی کمپیوٹرائزڈ کررہی ہے۔ سنہ 2012 سے اب تک کی 20 ہزار سے زائد ایف آئی آریں، ان سے متعلقہ تمام دستاویزات اور ضلعے کے دس ہزار جرائم پیشہ افراد کی معلومات بھی آن لائن ہو چکی ہیں۔

ڈی ایس پی محمد اشرف کہتے ہیں کہ ’ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر مقدمے کی سماعت تک جو بھی مرحلے آتے ہیں اب یہ سب معلومات کمپیوٹر میں محفوظ ہیں۔ ہمیں درجنوں قسم کی ڈائریاں آر پی او آفس آئی جی آفس اور عدالتوں وغیرہ کو بھیجنی ہوتی ہیں۔ پہلے یہ سارا کام ہاتھ سے کیا جا رہا تھا۔ اس میں بہت وقت ضائع ہوتا تھا۔ اب کمپیوٹر کی ایک کلک سے یہ تمام کام ہو رہا ہے۔ اور اب ہم پریکٹیکل پولیسنگ کے لیے فورس کو استعمال کرسکتے ہیں۔‘

اس سافٹ وئیر کے ذریعے جیسے ہی کوئی ایف آئی آر درج ہوتی ہے۔ سسٹم خود بخود اس کا ایس ایم ایس جنریٹ کرتا ہے جس میں مقدمے کا نمبر، دفعات، تفتیشی افسر کا نام اور رابطہ نمبر درج ہوتا ہے۔ مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے بھی مدعی کومسلسل باخبر رکھا جا رہا ہے۔

مقامی زمیندار محمد یونس نے چند روز پہلے ہی ایک جھگڑے کی ایف آئی درج کروائی ہے۔ اب انھیں اپنے مقدمے سے متعلق تمام معلومات ایس ایم ایس کے ذریعے فون پر ہی موصول ہورہی ہیں۔

محمد یونس کہتے ہیں: ’آج صبح مجھے مسیج آیا کہ آپ کا ایک ملزم محمد بخش گرفتار ہوگیا ہے اور ابھی مزید تفتیش جاری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے درخواست دے کر ایف آئی کی کاپی کے لیے تھانے کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ پولیس ملزموں کو پکڑ کر گرفتاریاں نہیں ڈالتی تھی، لیکن اب تو یہ کام ختم ہوگیا ہے کہ گاڑی میں پٹرول ڈلوائیں تاکہ پولیس ملزموں کو گرفتار کرنے جا سکے۔‘

Image caption اس ٹاور کی مدد سے جھنگ کے تمام پولیس سٹیشن ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں

اسی بارے میں