دہشت گردی کا ملبہ افغان پناہ گزینوں پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی 1979 میں آمد سے مہمان نوازی سے کوفت، قانونی و غیرقانونی اور خوف اور بدسلوکی جیسے ادوار سے گزری ہے

پاکستان میں قانون شکنی کو روکنے کے لیے معمول کا ایک مذاق ڈبل سواری پر فوری پابندی اور افغان پناہ گزینوں پر ملبہ گرانا رہا ہے۔

پشاور آرمی سکول پر حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر ڈبل سواری پر پابندی تو وقتاً فوقتاً نافذ کر دی جاتی ہے لیکن افغان پناہ گزین ایک مرتبہ پھر زیر عتاب ہیں۔ اس مرتبہ سب کے سب یعنی 30 لاکھ باشندے مشکل میں ہیں۔

افغان حکومت کے ہاتھ اس مرتبہ بند ہیں، لہٰذا وہ عوامی اور میڈیا کی سطح پر اس طرز کا شور نہیں مچا سکتی جیسا کہ وہ ماضی میں مچاتی رہی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ خاموش ہے۔ کابل اور اسلام آباد میں اس بارے میں اس سال کے اوائل میں کارروائی کے آغاز سے بات ہو رہی ہے اور افغان حکومت اسلام آباد کو اپنی تشویش سے آگاہ کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں افغان سفیر کی ملاقاتیں اہم ہیں۔

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی 1979 میں آمد سے مہمان نوازی سے کوفت، قانونی و غیرقانونی اور خوف اور بدسلوکی جیسے ادوار سے گزری ہے۔ تین دہائیوں سے پاکستانیوں کے ان افغان ہمسایوں کے لیے جذبات قبولیت سے مسترد کیے جانے، مثبت سے منفی اور گرم جوشی سے سردمہری کے درمیان تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ لگ بھگ یہی کچھ حکومتوں کی سطح پر بھی ہوتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں آج بھی 16 لاکھ رجسٹرڈ پناہ گزین موجود ہیں

پاکستان میں آج بھی 16 لاکھ رجسٹرڈ پناہ گزین موجود ہیں۔ اگر اسے دنیا کی طویل ترین عرصے تک بےگھر رہنے والی آبادی کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔ بغیر اندراج کے ان پناہ گزینوں کی تعداد کتنی ہے، درست اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ بھی تقریباً 20 لاکھ تک ہیں۔ ان میں کئی یہاں پاکستانیوں سے زیادہ رچ بس گئے ہیں۔ کئی کی یہاں نسلیں پلی بڑھی ہیں، اور یہاں ان کی جائیدادیں اور کاروبار ہیں۔ لیکن حکومت پاکستان نے کبھی انھیں شہریت دینے کی سہولت کے بارے میں نہیں سوچا جو اس مسئلے کا مستقل حل ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ شاید پاکستان کا 1951 کے پناہ گزینوں سے متعلق جنیوا کنونشن کا حصہ نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے افغان حکومت پاکستان سے کسی قانونی حیثیت کا تقاضا نہیں کر سکتی۔ حکومت پاکستان نے انھیں اب تک رجسٹریشن کے ثبوت یعنی پی او آر کے تحت دیکھا ہے۔

گیلپ پاکستان کے افغانوں کی آمد یعنی 1979 کے ایک سروے کے مطابق 84 فیصد پاکستانی چاہتے تھے کہ اسلام آباد افغان پناہ گزینوں کی مدد کرے۔ محض 12 فیصد کا خیال تھا کہ ان کی مدد نہیں کی جانی چاہیے۔ ایک برس بعد ایک دوسرے سروے میں 85 فیصد پاکستانیوں کے خیال میں حکومت کو افغان پناہ گزینوں کی خوراک، طبی امداد اور رہائش کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔

گیلپ کی تازہ رپورٹ کے مطابق تین سال بعد پاکستانیوں کی سوچ میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی۔ 1982 کے سروے میں یہ حمایت کم ہو کر 72 فیصد تک گر گئی جبکہ 46 فیصد کے خیال میں افغان قومی معیشت پر بوجھ بنتے جا رہے تھے۔ اسے سروے میں ان پر شک کے اشارے بھی ملنا شروع ہوگئے۔ 20 فیصد کے خیال میں افغان پناہ گزینوں کی اکثریت دہشت گرد اور روسی ایجنٹ تھی۔

تاہم اکثریت 52 فیصد اس سے متفق نہیں تھے۔ 1992 میں 57 فیصد پناہ گزینوں کا مزید ملک میں قیام برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ گراوٹ کا یہی رجحان آج تک جاری ہے۔

لیکن تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تاخیر کا شکار پناہ گزینوں کا یہ مسئلہ عوامی حمایت بھی کھو چکا ہے۔ گیلپ کی جانب سے اس سال کے اوائل میں ایک تازہ سروے میں 20 فیصد لوگ کی انھیں پاکستان میں رہنے دینے پر تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک تازہ سروے میں 20 فیصد لوگ انھیں پاکستان میں رہنے دینے پر تیار ہیں

کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی بڑی حد تک ذمہ داری ریاست پاکستان پر آتی ہے۔ اس نے ہمیشہ قانون نافذ کرنے کی بابت اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار افغانوں کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر مقیم یہی افغان پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر بھی ثابت ہوئے ہیں۔

وہ سستے مزدور اور پاکستانی مصنوعات کی کھپت کی ایک وجہ بھی رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ خصوصاً برطانیہ نے ایک عرصے سے معاشی طور پر پسماندہ ممالک کے غیرملکیوں کو اپنے معاشرے میں جگہ دی ہے۔ لیکن پاکستان میں ریاست کے منفی بیانیے کی وجہ سے 51 فیصد پاکستانی سمجھنے لگے ہیں کہ افغانوں کا جانا ان کی معیشت کے لیے بہتر ہے۔

کیا حکمرانوں کو نسلی توازن کے خراب ہونے کا خدشہ ہے کہ پاکستان میں اس بارے میں نہیں سوچا جا سکتا؟ اس معاملے میں بھی سیاست حاوی دکھائی دے رہی ہے۔

اسی بارے میں