سوات میں ’برف میلہ‘ اختتام پذیر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکیئنگ کے مقابلے کے اختتام پر انعامات تقسیم کیے گئے

خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں پاکستان کے واحد سکیئنگ ریزورٹ مالم جبہ میں دو روزہ برفانی میلہ اختتام پذیر ہوگیا ہے جس کے دوران اس علاقے میں زندگی کی گہماگہمی اور رونقیں قابل دید رہیں۔

سوات کے مقامی رہائشی اس میلے کے تسلسل سے انعقاد کو طالبان کی شکست اور ان کے مظالم کے خلاف فتح قرار دیتے ہیں۔

پاک فوج اور سول ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام سطح سمندر سے 9200 فٹ کی بلندی پر منعقد ہونے والے اس برفانی میلے کو دیکھنے کے لیے مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کی بڑی تعداد آئی ہوئی تھی۔

سوات کا سکیئنگ سکول جو طالبان سے نہ ڈرا

کھلاڑی اور تفریح کی غرض سے سکیئنگ میں حصہ لینے والے اور میلے میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ برف پوش پہاڑوں پر سیاحوں کے ہجوم نے ماحول کو انتہائی شاندار بنا دیا اور یہاں برفانی کھیل کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔

ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے کے ترجمان میجر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں تسلسل کے ساتھ سنو فیسٹول کا انعقاد سوات میں امن کی واپسی کی علامت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میلے کے دوران سکیئنگ کے کھلاڑیوں کو سہولتوں کے فقدان کی بھی شکایت رہی

ان کے مطابق اس میلے کے انعقاد کا مقصد شدت پسندی سے متاثرہ اس علاقے کی بحالی، موسم سرما کے سیاحت کا احیا اور علاقے میں کھیلوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔

میلے میں شریک اسلام آباد سے آئی ہوئی خاتون حنا علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں کی خوبصورتی کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوں اور سیکورٹی کے حوالے سے خود کو محفوظ تصور کررہی ہوں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سڑک کی خستہ حالی نے انھیں بے حد تھکا دیا ہے۔

اس برفانی میلے میں شریک علاقے کے ایک مقامی دوکاندار ابراہیم نے بتایا کہ انھیں پورا سال اس میلے کا انتظار رہتا ہے کیونکہ میلے کے انعقاد سے اس کا روزگار بہتر ہو جاتا ہے۔

تاہم اس بار میلے کا دررانیہ انتہائی مختصر تھا۔ میلے میں شریک سکیئنگ کے شوقین لوگوں کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران انہیں کافی مشکلات جھیلنا پڑیں اور 800 فٹ اونچے ڈھلوان پر جانے کے لیے انھیں پیدل چڑھنا پڑتا تھا۔

اس برفانی میلے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی جس نے خوب ہلہ گلہ کر کے میلے کی رنگینیوں میں اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج کے ترجمان میجر فاروق نے بتایا کہ علاقے میں تسلسل کے ساتھ سنو فیسٹول کا انعقاد سوات میں امن کی واپسی کی علامت ہے

سوات کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میلے کے انعقاد سے سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ان کا کاروبار بہتر ہو جاتا ہے۔

مینگورہ کے ایک دوکاندار نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کاروبار میں بہتری آ رہی ہے کیونکہ طالبان کے دور اقتدار میں یہاں کاروبار زندگی معطل رہی تھی۔

سوات میں طالبان کے دور اقتدار میں یہ علاقہ شدت پسندوں کا گڑھ تھا اور طالبان عسکریت پسندوں نے 2008 کے وسط میں پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے زیر ملکیت مالم جبہ کے سکیئنگ کے مقام کو تباہ کردیا تھا اور پی ٹی ڈی سی ہوٹل کو نذر آتش کر کے یہاں لگی چیئرلفٹ کو بھی تباہ کر دیا تھا۔

تاہم 2009 میں فوج کے ہاتھوں طالبان کے شکست اور علاقے سے بے دخلی کے بعد اس تفریحی مقام کی دوبارہ بحالی کی کوششیں جاری ہیں، اور یہ برفانی میلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

اسی بارے میں