ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد سمیت تین صوبوں میں اس سال ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات سے متعلق مجوزہ شیڈیول کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اسی پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں پہلے ہی بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ شیڈیول کے مطابق اگلے ماہ کی 25 تاریخ کو ملک بھر کے کنٹمونمنٹ بورڈوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کیے شیڈیول کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دس سال سے زائد عرصے کے درمیان ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ مجوزہ شیڈیول کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے، جب کہ اس سال جولائی میں وفاقی دارالحکومت میں بھی بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔

1983 میں اسلام آباد کو ضلعے کا درجہ دیا گیا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک یہاں بلدیاتی انتخابات نہیں منعقد ہوئے۔ یہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخاب کا انعقاد ہو گا۔

عدالت نے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو اسلام آباد میں حلقہ بندیوں سے متعلق کام جلد از جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ شیڈیول کے مطابق اس سال 20 ستمبر کو صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔

اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جو شیڈیول پیش کیا تھا اس کے مطابق صوبہ پنجاب میں اس سال نومبر میں، جب کہ سندھ میںاگلے سال کے آغاز میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے جانے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے مسترد کر کے اسی سال انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے۔

مزید برآں عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ کنٹونمنٹ بورڈوں میں انتخابات سے متعلق جلد از جلد قانون سازی کریں۔

اس دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ اسے آئین میں جو اختیار دیے گئے ہیں وہ انھیں استعمال کرے اور یہ کہ الیکشن کمیشن کسی کا ماتحت نہیں ہے بلکہ دوسرے ادارے اس کے ماتحت ہیں اور انھیں چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن سے تعاون کریں۔

اسی بارے میں