باز کا غیر قانونی شکار، قطری شہزادے پر جرمانہ

Image caption عمران خان نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’قطری شہزادے کو جرمانہ کرنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ نئے اور پرانے پاکستان میں کیا فرق ہے‘

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت کا کہنا ہے کہ عرب ملک قطر کے ایک شہزادے کو غیر قانونی طورپر باز کا شکار کرنے پر 80 ہزار روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ ماحولیات کے مشیر اشتیاق ارمڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر فہد نامی قطر کے ایک شہزادے کو ڈیرہ اسمعیل خان کے علاقے میں غیر قانونی طور پر شکار کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات نے غیر قانونی شکار کرنے پر عرب شہزدارے کو 80 ہزار روپے جرمانہ کیا اور اس کے قبضے سے تین باز بھی برآمد کئے گئے۔

انھوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی حکومت کی طرف سے کسی عرب ملک شہزادے کو غیر قانونی طور پر شکار کرنے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔

ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’قطری شہزادے کو جرمانہ کرنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ نئے اور پرانے پاکستان میں کیا فرق ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت نایاب نسل کی پرندوں کی حفاظت کررہی ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ نون کی حکومت ان پرندوں کے شکار اور پکڑنے کی لائسنس جاری کررہی ہے۔

خیال رہے کہ ہر سال عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے شہزادے پاکستان آکر نایاب نسل کے پرندوں کا شکار کرتے ہیں جس سے بیشتر پرندوں کی نسل ختم ہورہی ہے۔ شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان شہزادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے شکار کرنے کے باقاعدہ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ حکومت کی طرف سے شکار پر پابندی کے باوجود شاہی خاندانوں کے شہزادے کو شکار سے منع نہیں کیا گیا۔ بظاہر لگتا ہے کہ حکومت کی طرف سے انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ یہ امر بھی اہم کہ ذرائع ابلاغ میں عرب شہزادوں کی طرف سے پاکستانی قانونی کی بار بار دھجیاں اڑانے کی رپورٹیں بھی سامنے آتی رہی ہیں تاہم حکام کی جانب سے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

اسی بارے میں