قانون سازی سے سینیٹ کی سربراہی تک

Image caption گزشتہ کئی دہائیوں سے رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی کا سینیٹ کے چیئرمین کے لیے متفقہ امیدوار کے طور پر نامزد کیا جانا پاکستانی سیاست کی تلخ تاریخ میں ایک مثبت اور خوش آئیند پیش رفت ہے۔

ملک کےاس اہم آئینی عہدے کے لیے رضا ربانی کا حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی طرف سے متفقہ امیدوار کے طور پر نامزد کیا جانا جہاں پاکستانی سیاست کے دھیرے دھیرے پختگی کی طرف بڑھنے کا آئینہ دار ہے وہیں یہ رضا ربانی کی اپنی مقبولیت، غیرمتنازع شخصیت، قانونی اور آئینی امور پر مہارت، جمہوری اقدار پر غیر متزلزل یقین اور سیاسی بصیرت کا غماز ہے۔

چالیس سال سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے سیاسی کیرئیر میں رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور رضا ربانی ملک میں حلقوں کی روایتی سیاست میں تو زیادہ کامیاب نہیں رہے لیکن قانون سازی میں اُن کی مہارت اور آئینی اصلاحات کے لیے اُن کی کاوشیں باعثِ ستائش ہیں۔ سنہ 1993 سے اب تک مختلف ادوار میں رضا بانی پاکستان کے ایوان بالاِ کے رکن رہے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان سنہ 2006 میں لندن میں ہونے والے میثاقِ جمہوریت کا مسودہ بھی رضا ربانی نے تیار کیا تھا۔

سنہ 2008 میں عام انتخابات کے بعد جب پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی اور میثاقِ جمہوریت کے تحت 1973 کے آئین کو اُس کی اصل شکل میں بھال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو آئینی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی صدارت رضا ربانی کوسونپی گئی۔ اُن کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اٹھارہویں ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا اور اس آئینی ترمیم سے آمریت کی ادوار میں متعارف کروائی گئی شقیں ختم کی گئی اور اختیارات صدر کے بجائے منتخب وزیراعظم کو منتقل کیے گئے۔

انیسویں ترمیم اور بیسویں آئینی ترمیم کا مسودے کی تیاری میں بھی رضا ربانی شامل رہے۔ جو بعد میں پارلیمان سے منظوری کے بعد آئین کا حصہ بنا۔

بلوچستان کے عوام میں احساسِ محرومی ختم کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا گیا تو آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج تشکیل دینے کی ذمہ داری بھی رضا ربانی کو دی گئی۔ انھوں نے بلوچ عوام کو مراعات دینے کے لیے آغازِ حقوق بلوچستان پیکج پیش کیا جیسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا۔

سینیٹر رضا ربانی اس وقت سینیٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں۔

پاکستان سینیٹ کے سابق چئیرمین وسیم سجاد رضا ربانی کی متفقہ نامزدگی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔وسیم سجاد کے مطابق رضا ربانی سیاست کا وسیع تجربے رکھتے ہیں اور آئینی ترامیم کے حوالے سے اُن کا کردار بہت اچھا رہا ہے۔ وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ ’ وہ آئینی اصلاحاتی کمیٹی میں تمام پارٹیوں کو بہت بہتر انداز میں ساتھ لے کر چلے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان سنہ 2006 لندن میں ہونے والے میثاقِ جمہوریت کا مسودہ بھی رضا ربانی نے تیار کیا تھا

رضا ربانی کو بحیثیت چیئرمین ممکنہ چیلنجز کے حوالے سے وسیم سجاد کہتے ہیں کہ ’ سینیٹ میں حکومت کی اکثریت نہیں ہے اور کئی موقعے ایسے آئیں گے جب اختلافِ رائے ہو گا تو انھیں اِنتشار سے بچنا ہو گا۔قانون سازی میں کئی مشکلات آ سکتی ہیں۔ انھیں ہاؤس کے وقار کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گا ‘

پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے صحافی رضا ربانی کو ایک شعلہ بیاں مقرر کے طور پر جانتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سابق دور کے اوائل میں رضا ربانی سینیٹ میں قائدہِ ایوان تھے جب کبھی بھی کسی موضوع پر وہ تقریر کرتے تو نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن پنچوں پر بیھٹے سینیٹر بھی اُن کی تقریر پورے انہماک سے سنتے تھے۔

رضا ربانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتی دور میں پارٹی کے فیصلوں پر کھل کر تنقید بھی کی۔ حال ہی میں آئین میں اکیسیوین ترمیم پر رضا ربانی نے پارٹی کے فیصلے کے مطابق ووٹ ترمیم کے حق میں دیا لیکن سینیٹ میں انھوں نے اکیسویں ترمیم کی بھرپور مخالفت بھی کی اور برملا اظہار بھی کیا۔

پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے صحافی ایم بی سومرو کہتے ہیں کہ رضا ربانی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ اُن کے مطابق رضا ربانی سینیٹ میں دھواں دھار تقاریر کرتے تھے لیکن اب چئیرمین کی چیثیت سے انھیں بولنے کے بجائے زیادہ سننا پڑے گا۔

ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ ’اُن کی پارٹی اپوزیشن میں ہے لیکن اس عہدے کے لیے اُنھیں قانونی ضابطے کے مطابق چلنا ہو گا۔ دباؤ بھی ہو گا۔مشکلات بھی آئیں گی۔ہاؤس کو نیوٹرل ہو کر چلانا ہو گا۔‘

پوری زندگی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی رکھنے والے رضا ربانی چئیرمین سینیٹ بن رہیں ہیں جبکہ اُن کی جماعت وفاق میں اپوزیشن میں ہے اور سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن اتحاد کے پاس کم و بیش برابر برابر نشتیں ہیں۔

سینیٹِ پاکستان وفاق کی علامت ہے۔ مبصرین کے خیال میں رضا ربانی ایسے موقعے پر اہم آئینی عہدہ سنبھالیں گے جبکہ ملک میں مرکزیت کے حامی کئی حلقے اُن ہی کی متعارف کروائی گئی اٹھارہوین ترمیم پر تنقید کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں