’زرداری نے چھاپے کی مذمت نہیں کی تشویش کا اظہار کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے

کراچی میں رینجرز کے متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر اور سیکریٹیریٹ پر چھاپے میں’سزایافتہ ٹارگٹ کلرز‘ کی گرفتاری اور غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے واقعے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جماعت کے سربراہ الطاف حسین نے سابق صدر اور سندھ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ٹیلی فون پر بات کی۔

بیان میں کہا گیا کہ الطاف حسین کی جانب سے آصف زرداری کو اپنی رہائش گاہ، مرکزی دفتر نائن زیرو اور ہمشیرہ کے گھر پر رینجرز کے چھاپے اورگرفتاریوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

’آصف علی زرداری نے چھاپے کی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے تقدس کا احترام ہرایک کو کرناچاہیے۔‘

تاہم سابق صدر آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کی جانب سے واقعے پر سابق صدر کی مذمت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ’ آصف علی زرداری نے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال عید کے موقعے پر پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’انکل الطاف اپنے نامعلوم افراد کو سنبھالیں اگر ہمارے کسی کارکن پر آنچ بھی آئی تو لندن پولیس کیا میں آپ کا جینا حرام کر دوں گا۔‘

دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کے مراکز پر چھاپے میں ٹارگٹ کلرز اور غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تحریک انصاف کراچی کے صدر علی زیدی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’ رینجرز نے ایم کیو ایم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور ان الزامات سے متعدد سوالات جنم لیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے بدھ کی صبح نائن الیون کے مرکز میں چھاپے کے دوران غیر قانونی اسلحہ اور سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا

جرائم پیشہ افراد اور ٹارگٹ کلرز نائن زیرو سے کیوں برآمد ہوئے؟ نائن زیرو پر فیصل محمود اکا’ فیصل موٹا‘ کیا کر رہا تھا جو ولی بابر کیس میں سزا یافتہ ہے؟ عامر خان انھیں تحفظ کیوں دیے رہا تھا اور نیٹو کینٹینرز سے اسلحہ کس نے چوری کیا اور اسے نائن زیرو پہنچایا۔

بیان کے مطابق سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔

تحریک انصاف کراچی کے صدر نے مطالبہ کیا کہ کراچی سے پکڑے جانے والے تمام ٹارگٹ کلرز کو ان کی سیاسی واسبتگی سے بلالحاظ ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔

وفاق میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ اور وزیراعظم نواز شریف بدھ کو کراچی میں ہی موجود تھے جہاں انھوں نے ایم کیو ایم کے رہنما اور گورنر سندھ عشرت العباد کے ہمراہ کراچی سے حیدر آباد تک موٹروے تعمیر کرنے کا سنگ بنیاد رکھا۔

گذشتہ سال ستمبر میں کراچی میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے پی ایس 126 کے دفتر پر چھاپہ مار کر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس واقعے کی ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے نجی وی چینلز پر مذمت کرتے ہوئے کہا پاکستانی فوج کی حمایت میں ماضی میں کیے جانے والے اقدامات اور فوج کے سابق سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا باب بند ہونے سے متعلق مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا: ’فوج کا کام تنظیموں کو توڑنا اور تنظیموں میں گروپ بندی کرنا نہیں ہے، جنرل راحیل صاحب فوج کو ان حرکتوں اور سیاست سے نکال لیجیے۔

اسی بارے میں