ڈیرہ بگٹی میں مزید چھ شرپسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں بھی ایف سی نے سرچ آپریشن میں سات شرپسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور نے جمعرات کو دوسرے روز بھی سرچ آپریشن کیا ہے اور اس کارروائی کے دوران مزید چھ شرپسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ آپریشن درنجین نالہ اور رستم دربار کے علاقوں میں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

ایف سی کے مطابق آپریشن کے دوران مسلح افراد نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی جس پر ایف سی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

بیان کے مطابق اس مقابلے کے دوران چھ مسلح افراد ہلاک ہوگئے اور بارود کا ایک ذخیرہ تباہ کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے لوگ سکیورٹی فورسز پر حملوں،گیس پائپ لائنو ں اور بجلی کے کھمبوں کی تباہی میں ملوث تھے۔

کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی آر اے کے ترجمان نے اس حوالے سے نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ رستم دربار کے علاقے میں تنظیم کے کارکنوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں فورس کو جانی نقصان پہنچایا گیا تاہم ایف سی کے بیان میں اہلکاروں کے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اسی طرح بی آر اے کے ترجمان نے بھی تنظیم سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں بھی ایف سی نے سرچ آپریشن میں سات شرپسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی بارے میں