تین افراد کو قتل کرنے والے گارڈ کو پھانسی دے دی گئی

Image caption حکومتِ پاکستان نے دس مارچ کو ملک بھر میں سزایے موت پر عائد پابندی کو ختم کر دیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ڈسٹرکٹ جیل میں تین افراد کے قتل کے مجرم محمد صدیق کو پھانسی دے دی گئی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ڈسٹرکٹ جیل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد صدیق کو بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دی گئی اور ان کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

محمد صدیق ریٹائرڈ فوجی تھے اور مقامی سینیما میں سکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی دیتے تھے۔ انھوں نے 2004 میں سینما کی حدود میں تین افراد کو قتل کیا تھا۔

تھانہ کمالیہ میں نائب محرر محمد الیاس کے مطابق محمد صدیق نے مقامی سینیما میں سٹیج ڈرامے کے دوران گانے پر رقص کرتے ہوئے افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد ازاں محمد صدیق نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ انھوں نے لڑکوں کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ وہاں موجود ایک لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔

محمد صدیق ساڑھے دس سال سے قید میں تھے اور ان پر اقدام قتل کی دفعہ 324/ 302 اور دہشت گردی کی دفعہ 7ATA کے تحت مقدمہ چلایا گیاتھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلیں مسترد ہوئی جس کے بعد پاکستان کے صدر نے ان کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نےدو روز قبل ہی ملک بھر میں سزائے موت پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ اس سزا پر عمل کیا جائے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام مقدمات جن میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں ان کی سزاؤں پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔

اسی بارے میں